National News

ماچاڈو کا امن انعام حاصل کر کے ٹرمپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی، کہا- یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، نوبل انسٹی ٹیوٹ نے بتائی سچائی

ماچاڈو کا امن انعام حاصل کر کے ٹرمپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی، کہا- یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، نوبل انسٹی ٹیوٹ نے بتائی سچائی

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنا نوبیل امن انعام انہیں “منسوب کر دیا ہے۔ اس دعوے کے بعد ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے لیے اعزاز بتایا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ماچاڈو “ایک بہادر اور شاندار خاتون” ہیں اور ان کا یہ قدم باہمی احترام کی علامت ہے۔ وائٹ ہاو¿س میں ہونے والی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ماچاڈو نے ان کے کاموں سے متاثر ہو کر یہ اعزاز دیا ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ اس اعزاز کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم، نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے اس پورے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوبیل انعام کسی اور کو دیا یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ادارے کے مطابق، یہ انعام ذاتی ہوتا ہے اور صرف اسی شخص کے نام سے معتبر رہتا ہے جسے یہ دیا گیا ہو۔ ایسے میں ماچاڈو کی جانب سے نوبیل “دینے” کا دعویٰ صرف علامتی سمجھا جا سکتا ہے۔
نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا کہ ماچاڈو وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خلاف طویل عرصے سے جدوجہد کی نمایاں شخصیت رہی ہیں، لیکن اس واقعے میں ان کی جدوجہد کو پیچھے چھوڑ کر سارا فوکس ٹرمپ پر چلا گیا، جو غیر معمولی ہے۔ اس طرح، ٹرمپ کے حوالے سے نوبیل ملنے کی خبر نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں ایک طرف اسے علامتی اعزاز بتایا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف قواعد کے تحت اسے ناممکن قرار دیا گیا ہے۔
                
 



Comments


Scroll to Top