Latest News

امریکہ میں برفانی طوفان کا قہر، اب تک 38 افراد جاں بحق ، لاکھوں گھروں کی بجلی بند

امریکہ میں برفانی طوفان کا قہر، اب تک 38 افراد جاں بحق ، لاکھوں گھروں کی بجلی بند

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ میں شدید سردی اور برفانی طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ 23  جنوری سے شروع ہونے والے اس طاقتور سرمائی طوفان کے باعث چودہ ریاستوں میں اب تک کم از کم 38  افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق ملک کے وسطی اور مشرقی حصوں میں شدید برف باری، برف جمنے  (آئسنگ ) اور صفر  (نقط انجماد ) سے کم درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
طوفان کیسے پھیلا اور کیا پڑا اثر 
23  جنوری کو وجود میں آنے والا یہ طوفان ہفتے کے آخر میں وسیع علاقوں تک پھیل گیا۔ سڑکوں پر جمی برف کے باعث آمد و رفت ٹھپ ہو گئی، ہزاروں پروازیں منسوخ کرنی پڑیں اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ 26 جنوری تک برف باری میں کمی آئی، لیکن اس کے بعد شدید سردی برقرار رہی، جس کے طویل عرصے تک رہنے کا خدشہ ہے۔27  جنوری تک پانچ لاکھ پچاس ہزار سے زائد گھروں اور کاروباری اداروں میں بجلی نہیں تھی۔
نیو یارک سٹی میں سب سے زیادہ اثر
نیو یارک سٹی میں دس افراد کی موت ہوئی۔ میئر ظہران ممدانی کے مطابق 27  جنوری کو درجہ حرارت منفی 13  ڈگری سیلسیس تک گر گیا، جو گزشتہ آٹھ برسوں میں سب سے سرد دن تھا۔ تمام متوفی افراد باہر پائے گئے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ بے گھر تھے یا نہیں۔ میئر نے کہا کہ کچھ متوفیوں کا پہلے پناہ گاہ کے نظام سے رابطہ رہا تھا، لیکن اموات کی وجوہات پر ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ اسی وجہ سے شہر نے بے گھر افراد کی سالانہ گنتی، جو امریکی محکمہ رہائش کے تحت ہوتی ہے، فروری کے آغاز تک مؤخر کر دی۔ 
میئر کا واضح پیغام تھا کہ انتہائی موسم کسی کی ذاتی ناکامی نہیں ہے۔ ہماری ترجیح لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا ہے، نہ کہ صرف اعداد و شمار جمع کرنا۔ 19  جنوری سے اب تک تقریبا پانچ سو بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ شدید صحت کے خطرات سے دوچار تین سو پچاس بے گھر افراد کی ہر دو گھنٹے بعد جانچ کی جا رہی ہے۔
نیش وِل میں حالات نہایت سنگین
ٹینیسی کے نیش وِل میں حالات کے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے، جہاں 28  جنوری کی صبح درجہ حرارت منفی چودہ ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔ یہاں ایک لاکھ35 ہزار سے زائد گھر اور کاروباری ادارے بجلی سے محروم ہیں۔ میئر فریڈی  'او کونل نے اسے ' ایک تاریخی برفانی طوفان قرار دیا۔ شہر کی تمام تین پناہ گاہیں اور دو اضافی پناہ گاہیں مکمل طور پر بھر چکی ہیں۔ پولیس، فائر بریگیڈ اور ہنگامی ٹیمیں اضافی اوقات میں کام کر رہی ہیں۔ نیش وِل ریسکیو مشن میں عام طور پر جہاں روزانہ چار سو افراد آتے ہیں، وہیں اس سردی میں یہ تعداد بڑھ کر تقریبا سات ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ادارے کے ایک ملازم نے بتایا کہ ہم کبھی کسی کو واپس نہیں بھیجتے۔ موسم خراب ہوتا ہے تو لوگ سردی سے بچنے کے لیے یہاں آ جاتے ہیں۔
اموات کی مختلف وجوہات
اس طوفان سے ہونے والی اموات کی وجوہات مختلف رہی ہیں۔ 
ہائپو تھرمیا (شدید سردی کے باعث جسمانی درجہ حرارت کا گرنا ) ۔
 برف ہٹاتے وقت دل کا دورہ پڑنا۔
 سردی اور پھسلن سے متعلق حادثات۔
 ٹیکساس کے بونہم میں تین کم سن بچوں کی موت برف جمی جھیل میں گرنے سے ہوئی۔ آسٹن ٹیکساس میں ایک شخص کی موت بند پیٹرول پمپ میں پناہ لینے کی کوشش کے دوران شدید سردی کے باعث ہوئی۔ اس کے علاوہ کینساس، کینٹکی، لوزیانا، مسیسیپی، ساتھ کیرولائنا، ٹینیسی اور مشی گن سے بھی سردی سے متعلق اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مجموعی صورتحال
امریکہ اس وقت شدید سردی کی آفت سے نبرد آزما ہے۔ انتظامیہ کی توجہ خاص طور پر بے گھر اور کمزور افراد کو محفوظ رکھنے، بجلی کی بحالی اور ہنگامی خدمات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ سردی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں بھی حالات چیلنجنگ رہ سکتے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top