Latest News

غلامی کو قانونی حیثیت، مولویوں کو جرم کرنے پر بھی سزا نہیں ، اس ملک نے نافذ کیا قانون

غلامی کو قانونی حیثیت، مولویوں کو جرم کرنے پر بھی سزا نہیں ، اس ملک نے نافذ کیا قانون

انٹرنیشنل ڈیسک: افغانستان میں طالبان حکومت نے اپنے قوانین میں ایسی بڑی تبدیلی کی ہے جس پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طالبان انتظامیہ نے نیا فوجداری طریق کار قانون نافذ کیا ہے، جس میں غلامی جیسی رسم کو دوبارہ قانونی طور پر تسلیم کرنے اور مذہبی رہنماؤں یعنی مولویوں کو قانون سے بالاتر رکھنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری میں شدید تنازع شروع ہو گیا ہے۔
مولویوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلے گا
طالبان کے اعلیٰ ترین رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے 58  صفحات پر مشتمل اس نئے قانون کی منظوری دی ہے اور اسے ملک کی عدالتوں میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کوئی مولوی یا مسلم مذہبی پیشوا جرم بھی کرے تو اس کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جرم ثابت ہونے کے باوجود مولویوں کو سزا نہیں دی جائے گی، صرف انہیں مشورہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔
افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا 
نئے قانون کے آرٹیکل 9  کے تحت طالبان نے افغان معاشرے کو چار قانونی زمروں میں تقسیم کر دیا ہے۔
علما ء ( مذہبی رہنما یا مولوی) ۔
اشراف ( اعلی طبقہ )۔
درمیانی طبقہ۔
نچلا طبقہ اور غلام۔
اس قانون میں غلام اور مالک جیسے الفاظ کھلے طور پر استعمال کیے گئے ہیں، جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ غلامی کو ایک قانونی سماجی زمرے کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
نچلے طبقے کے لیے سخت سزا
انسانی حقوق کی تنظیم رواداری کے مطابق اگر نچلے طبقے یا غلام کے زمرے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد جرم کرے تو اسے قید کی سزا کے ساتھ ساتھ جسمانی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ جبکہ اسی نوعیت کے جرم پر مولویوں کو کسی بھی قسم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس غیر مساوی نظام پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جسمانی تشدد کی نئی تعریف
لندن میں قائم افغان انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نئے قانون میں جسمانی تشدد کی تعریف بھی انتہائی محدود رکھی گئی ہے۔ اس کے مطابق جب تک ہڈی نہ ٹوٹے یا جلد نہ پھٹے، اسے تشدد نہیں مانا جائے گا۔ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والد اپنے دس سالہ بیٹے کو نماز نہ پڑھنے جیسے امور پر جسمانی سزا دے سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا سخت ردعمل
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے میڈیا سیل نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے غلامی کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور اب عدالتیں کسی فرد کے جرم پر اس کی سماجی حیثیت دیکھ کر فیصلہ سنائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق، مساوات اور انصاف کے تصور کے مکمل طور پر خلاف ہے۔ اس نئے قانون کے بعد افغانستان میں عام لوگوں خصوصا نچلے طبقے اور خواتین کی حالت مزید کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top