بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز نئے سال 2026 کے موقع پر قوم سے خطاب میں کئی اہم اور متنازع بیانات دیے۔ سب سے بڑا بیان تائیوان کے حوالے سے تھا، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں للکارتے ہوئے کہا کہ تائیوان کا چین کے ساتھ دوبارہ اتحاد کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان آبنائے کے دونوں جانب رہنے والے لوگ خون اور بھائی چارے کے اٹوٹ رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن کا دوبارہ ملاپ وقت کی ضرورت ہے اور یہ عمل روکا نہیں جا سکتا۔
فوجی مشقوں کے درمیان سخت پیغام
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چینی فوج تائیوان کے اردگرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کر رہی ہے۔ چین تائیوان کے قریب لڑاکا طیاروں، طیارہ بردار جہازوں اور ڈرونز کے ساتھ وسیع فوجی مشقیں انجام دے رہا ہے۔ 2022 کے بعد یہ چھٹی بار ہے جب چین نے تائیوان کے نزدیک اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
برہم پتر پر بڑے ڈیم کا ذکر
اپنے خطاب میں شی جن پنگ نے تبت کے نچلے علاقوں میں یارلنگ ژانگبو برہم پتر دریا پر بنائے جا رہے دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا 170 ارب ڈالر کی لاگت سے اس منصوبے کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ یہ ڈیم اروناچل پردیش کی سرحد کے انتہائی قریب اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقے میں بنایا جا رہا ہے، جس سے ہندوستان اور بنگلہ دیش میں اچانک سیلاب یا آبی بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
طاقت کا مظاہرہ
شی جن پنگ نے چین کی فوجی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ الیکٹرو میگنیٹک کیٹا پلٹ نظام سے لیس پہلا چینی طیارہ بردار جہاز فوجیان اب بحریہ میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ امریکہ کے یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) کے بعد دنیا کا دوسرا ایسا طیارہ بردار جہاز ہے۔ عالمی تنازعات پر بات کرتے ہوئے شی نے دعوی کیا کہ چین ہمیشہ درست فریق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ عالمی امن کا حامی ہے۔ انہوں نے تکنیکی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین میں تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ کُنگ فو کر رہے ہیں، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی کساد بازاری کے باوجود چین کی مجموعی قومی پیداوار 20 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔