انٹر نیشنل ڈیسک: تہران میں ہونے والے حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پوری دنیا میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ کیا یہ ٹکراؤ اب مکمل جنگ میں بدل جائے گا۔ کیا علاقائی تنازع عالمی سلامتی کو متاثر کرے گا۔ اگرچہ حالات نہایت کشیدہ ہیں، لیکن عالمی رہنماؤں کے بیانات نسبتاً متوازن اور محتاط رہے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان، اقوام متحدہ کی ہنگامی نشست
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کی موت کو ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کی باگ ڈور واپس لینے کا موقع قرار دیا۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حالات پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ علاقائی امن پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
یورپ کی محتاط اپیل
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے مشترکہ بیان میں امریکہ اور ایران سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی۔ میکرون نے واضح کہا کہ فرانس کو حملوں کی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور صرف فوجی کارروائی سے جوہری پروگرام جیسے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ تینوں ممالک نے ایران کے جوابی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے دیا جانا چاہیے۔
عرب ممالک اور عمان کا ردعمل
عرب لیگ نے ایران کے حملوں کو خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سعودی عرب، اردن، مراکش اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے خطے میں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کی تنقید کی۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان نے کہا کہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے خلاف ہے اور تنازعات کا حل پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔