Latest News

ٹرمپ کی ہندوستان کو وارننگ : روسی تیل چھوڑ کر امریکہ اور وینزویلا سے خریدو، ورنہ پھر لگے گا 25 فیصد ٹیرف

ٹرمپ کی ہندوستان کو وارننگ : روسی تیل چھوڑ کر امریکہ اور وینزویلا سے خریدو، ورنہ پھر لگے گا 25 فیصد ٹیرف

نیشنل ڈیسک :ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت تیز ہو گئی ہے، لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹس عام لوگوں کی جیب تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 'امریکہ فرسٹ ' پالیسی کے تحت  ہندوستان  کے سامنے ایک سخت پیغام رکھا ہے۔ روس سے تیل کی خرید کم کرو یا بند کرو، اور بدلے میں امریکہ اور وینزویلا سے درآمد بڑھاؤ۔ وارننگ بھی صاف ہے۔ شرط نہ مانی تو 25 فیصد ٹیرف دوبارہ لگایا جا سکتا ہے۔  اس پورے معاملے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر  ہندوستان  امریکی دبا ؤ میں آ کر تیل کی درآمد کا راستہ بدلتا ہے، تو کیا پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے ہوں گے۔
روس پر انحصار کم کرنا کتنا عملی ہے
ہندوستان  اپنی ضرورت کا تقریبا 85 فیصد خام تیل بیرون ملک سے منگاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں روس ہندوستان  کا سب سے بڑا سپلائر بن کر سامنے آیا، جہاں سے کل درآمد کا تقریبا ایک تہائی حصہ آتا رہا۔ تاہم اب حالات بدل رہے ہیں۔ توانائی ماہرین مانتے ہیں کہ روس سے مکمل دوری آسان نہیں ہے، لیکن کمی کی شروعات ہو چکی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، سرکاری ریفائنریاں جیسے انڈین آئل اور ایچ پی سی ایل اب وینزویلا سے سپلائی کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔ وہیں ریلائنس انڈسٹریز نے روس سے تیل کی خرید روک کر وینزویلا سے بڑی کھیپ کا آرڈر دے دیا ہے۔
صرف سپلائر نہیں، تیل کی کوالٹی بھی بڑا فیکٹر
یہ معاملہ صرف سفارت کاری کا نہیں، تکنیکی حساب کتاب کا بھی ہے۔ امریکی شیل آئل ہلکا ہوتا ہے، جسے گیس کنڈینسیٹ کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس روس کا یورال کروڈ بھاری اور زیادہ سلفر والا ہوتا ہے۔ ہندوستان  کی کئی ریفائنریاں خاص طور پر اسی بھاری روسی تیل کو پراسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ ایسے میں امریکی تیل کو سیدھا استعمال کرنا مشکل ہے۔ اس کے لیے مختلف گریڈ کے تیلوں کے ساتھ بلینڈنگ کرنی پڑے گی، جو وقت لینے کے ساتھ ساتھ مہنگی بھی ہے۔
مہنگائی کی آنچ آپ کی جیب تک کیسے پہنچے گی
روس ہندوستان  کو طویل عرصے سے خام تیل پر بڑی چھوٹ دیتا آ رہا ہے۔ پہلے جہاں یہ ڈسکاؤنٹ 7 سے 8 ڈالر فی بیرل تھا، اب یہ 11 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی روسی تیل ہندوستان  کے لیے سستا سودا رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکی خام تیل کہیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ انرجی ڈیٹا فرموں کا اندازہ ہے کہ اگر ہندوستان  روسی تیل چھوڑ کر امریکی تیل اپناتا ہے، تو ریفائنریوں کو فی بیرل کم از کم 7 ڈالر زیادہ ادا کرنے ہوں گے۔ 
ساتھ ہی امریکہ سے ہندوستان  تک لمبی دوری کی وجہ سے شپنگ ٹائم اور ٹرانسپورٹ خرچ بھی بڑھے گا۔جب ریفائنریوں کی لاگت بڑھے گی، تو اس کا بوجھ آخرکار صارفین پر ہی آئے گا۔ یعنی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
صرف اقتصادی نہیں، سیاسی چیلنج بھی
توانائی مارکیٹ پر نظر رکھنے والی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ روس سے تیل کی خرید اچانک روکنا ہندوستان  کے لیے صرف تجارتی خطرہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک بڑا سیاسی اور تزویراتی درد سر بھی بن سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top