National News

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہماچل میں سرکاری دفاتر کی منتقلی پر حکومت آزاد

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہماچل میں سرکاری دفاتر کی منتقلی پر حکومت آزاد

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے پیر کے روز ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں ریاستی حکومت کی جانب سے ’ہماچل پردیش پسماندہ طبقات کمیشن‘ کا ہیڈ کوارٹر شملہ سے ضلع کانگڑا کے دھرم شالہ منتقل کرنے کی تجویز پر روک لگائی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی ادارے کے ہیڈ کوارٹر کی منتقلی پالیسی کا معاملہ ہے اور اس میں عدالتی مداخلت کی گنجائش انتہائی محدود ہے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بادی النظر میں یہ واضح ہے کہ کسی ادارے کے ہیڈ کوارٹر کی منتقلی ایک پالیسی فیصلہ ہے۔ یہ عام طور پر عدالتی نظرثانی کے دائرے میں نہیں آتا، خاص طور پر جب معاملہ عوامی مفاد سے جڑا ہو۔ بنچ نے کہا کہ چوں کہ معاملہ ابھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، اس لیے وہ میرٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہے، لیکن ریاستی حکومت کے لیے دفتر منتقل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کو زیر التوا کارروائی میں جاری ہونے والے احکامات کے تابع رہتے ہوئے کمیشن کا ہیڈ کوارٹر دھرم شالہ یا کسی دوسرے موزوں مقام پر منتقل کرنے کی آزادی ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے 9 جنوری کو کمیشن کے سابق ممبر رام لال شرما کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مجوزہ منتقلی پر عبوری روک لگا دی تھی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ شملہ میں موجودہ دفتر کے احاطے کو 99 سال کے لیے لیز پر لینے پر 22 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ کی جا چکی ہے، کمیشن میں عملہ محدود ہے اور دھرم شالہ میں متبادل انتظامات کے حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپریل میں اگلی سماعت تک منتقلی روک دی تھی۔ اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کی مداخلت پر سوال اٹھایا کہ اگر کچھ دفاتر منتقل کیے جاتے ہیں تو اس میں مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ اس کے دفاتر کہاں ہوں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر وکیل مادھوی دیوان نے بتایا کہ جن افسران کو منتقلی میں دشواری ہوگی، انہیں منتقل نہیں کیا جائے گا اور شملہ کا دفتر ’کیمپ آفس‘ کے طور پر کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگڑا کے علاقے میں پسماندہ طبقات کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہیڈ کوارٹر وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے لوگوں کو زیادہ سہولت ملے گی۔
عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انصاف تک رسائی اور شکایات کے ازالے کا نظام لوگوں کے قریب لایا جانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک کوئی فیصلہ آئین یا بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی نہ کرے، عدلیہ کو ایسے انتظامی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی عائد کردہ پابندی کو ختم کر دیا۔



Comments


Scroll to Top