نیویارک: ہندوستان اور یورپی یونین (EU) کے درمیان ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر امریکہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے اس معاہدے کو "انتہائی مایوس کن" قرار دیا اور کہا کہ یورپ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ پروگرام 'اسکواک آن دی یو ایس اسٹریٹ' میں بات کرتے ہوئے بیسینٹ نے کہا کہ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے یورپی ممالک ہندوستان سے خریدے گئے روسی تیل پر امریکی کوششوں کی حمایت نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین-روس جنگ میں یورپی ممالک خود کو سب سے آگے ظاہر کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ تجارت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بیسینٹ کے مطابق، ہندوستان نے پابندیوں کے باوجود روس سے تیل خریدا اور اسی تیل سے بنی ریفائنڈ مصنوعات یورپی ممالک نے خریدیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اس طرح یورپی ممالک انجانے میں اپنے ہی خلاف چل رہی جنگ کو مالی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سوچ سے پرے ہے۔
بیسینٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان پر 25 فیصد محصول عائد کیا تھا، لیکن یورپ نے اس معاملے پر امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کا الزام ہے کہ یورپی ممالک اس تجارتی معاہدے کو ہر صورت میں آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ توانائی کی ضرورت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یورپ سستی توانائی چاہتا ہے، لیکن اگر امریکہ بھی پابندی شدہ روسی تیل خریدتا، تو اسے بھی سستی توانائی مل سکتی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ یہ مسلسل دوسرا دن ہے جب امریکہ کے کسی سینئر رہنما نے ہندوستان - یورپی یونین تجارتی معاہدے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس معاہدے کو "مدر آف آل ڈیل" کہا جا رہا ہے۔ منگل کو نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی، یورپی کمیشن کی صدر ارسلولاوان ڈیر لیئین اور یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا نے اس تاریخی تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسی دن امریکی تجارتی نمائندے نے کہا تھا کہ اس ڈیل کا سب سے بڑا فائدہ ہندوستان کو ہوگا۔