ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ایک چونکا دینے والا اور شرمناک انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش نے دھوکہ دہی اور جعل سازی کے باعث دنیا بھر میں بدنامی حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر جعلی دستاویزات نے ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق محمد یونس نے کہا کہ سب کچھ جعلی ہے، پاسپورٹ جعلی ہیں اور ویزے بھی جعلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ہمارے پاسپورٹس کو قبول ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ بنگلہ دیش ایک طرح سے دھوکہ دہی کی فیکٹری بن چکا ہے۔
محمد یونس نے یہ باتیں ڈھاکہ میں واقع بنگلہ دیش چین فرینڈشپ کانفرنس سینٹر میں منعقدہ چار روزہ ڈیجیٹل ڈیوائس اینڈ انوویشن ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب کے دوران کہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزے مسترد ہونے کی سب سے بڑی وجہ جعلی دستاویزات ہیں، جن میں نقلی تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں۔ محمد یونس نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے ویزے کے لیے درخواست دی، لیکن جانچ کے دوران اس کے تمام کاغذات جعلی نکلے۔ ان واقعات کے باعث کئی ممالک نے بنگلہ دیشی شہریوں حتی کہ ملاحوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
اس سے نہ صرف عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ملک کی شبیہ کو بھی گہرا دھچکا پہنچا ہے۔
محمد یونس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ذہانت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی عوام سے اپیل کی کہ ٹیکنالوجی کو دھوکہ دہی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ایمانداری اور انصاف کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ بنگلہ دیش کو دھوکہ دہی کی فیکٹری کہا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے دنیا میں سر اٹھا کر چلنا ہے۔