Latest News

پاکستان میں انسانیت شرمسار: 6 سالہ عیسائی بچی سے جنسی زیادتی، ٹیچر کے بھائی نے بنایا ہوس کا شکار

پاکستان میں انسانیت شرمسار: 6 سالہ عیسائی بچی سے جنسی زیادتی، ٹیچر کے بھائی نے بنایا ہوس کا شکار

اسلام آباد: پاکستان کے فیصل آباد ضلع کے جارنوالا علاقے سے ایک معصوم بچی کے ساتھ ریپ کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ چھ سالہ عیسائی بچی شمایہ سلیم کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی نے ملک کے قانون کے نظام اور اقلیتوں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وحشیانہ واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ہیومن رائٹس فوکس پاکستان (HRFP) نے ملزمان کی فوری گرفتاری، غیر جانبدارانہ تفتیش اور متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Pakistan: A 6-Year-Old Christian Girl Shamya Saleem – Brutally Raped by Muslim Tutor’s Son.

Shamya Saleem went for her regular tuition at the home of her teacher Seerat Dogar (daughter of Riaz Dogar).

The teacher’s Muslim son, Muhammad Uzair Riaz Dogar, exploited the situation:… pic.twitter.com/83I9NsyWA8

— Faraz Pervaiz (@FarazPervaiz3) January 22, 2026


متاثرہ بچی کے والد سلیم مسیح، جو اجرتی مزدور ہیں، نے HRFP کو بتایا کہ یہ واقعہ 10 دسمبر 2025 کو پیش آیا۔ شمایہ روز کی طرح اپنی ٹیوشن پڑھنے استادہ سیرت کے گھر گئی تھی، جہاں اسے استاد کے بھائی محمد عزیر ڈوگر نے اغوا کر لیا۔ جب بچی مقررہ وقت پر گھر نہ پہنچی تو والدین نے تلاش شروع کی۔ موقع پر پہنچنے پر والدہ کلثوم بی بی نے بچی کی چیخیں سنیں۔ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ جب وہ کمرے میں داخل ہوئے، تو ملزم کو بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا۔ پکڑے جانے پر ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔
خاندان نے بچی کو فوراً ہسپتال پہنچایا ، لیکن الزام ہے کہ ہسپتال نے پہلے علاج سے انکار کیا اور پولیس کارروائی کی بات کر کے انہیں تھانے بھیج دیا۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے ریپ کی کوشش اور بچی کے قتل کی کوشش قرار دیا، تاہم بچی کی جان بچ گئی۔ HRFP کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو ان کے عیسائی ہونے کی وجہ سے دھمکیاں، دباؤ اور امتیازی سلوک برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ معاملے کو دبانے کا دباؤ  ڈال رہے ہیں۔ گاؤں کے لوگ بھی خاندان کا ساتھ نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ HRFP کے صدر ندیم والٹر نے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان میں بچوں کی حفاظت، پولیس کارروائی اور اقلیتوں کو انصاف دلانے کے نظام کی بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ معاملہ فی الحال عدالت میں ہے ۔24 جنوری کو ہوئی سماعت میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہوئی ، جبکہ اگلی سماعت 3 فروری کو طے ہوئی ہے ۔ 
 



Comments


Scroll to Top