Latest News

جوہری توازن پر خطرے کی گھنٹی، امریکہ نے چین پر لگایا خفیہ جوہری ٹیسٹ کا الزام

جوہری توازن پر خطرے کی گھنٹی، امریکہ نے چین پر لگایا خفیہ جوہری ٹیسٹ کا الزام

واشنگٹن: عالمی جوہری توازن کے حوالے سے ایک بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ چین نے تقریبا چھ سال پہلے خفیہ طور پر جوہری تجربہ کیا تھا۔ امریکی بیورو آف آرمز کنٹرول اور عدم پھیلا ؤ بیوروکے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ کرسٹوفر اے فورڈ  (جسے کرسٹوفر ییو کہا جاتا ہے ) نے اقوام متحدہ کی حمایت سے منعقدہ تخفیف اسلحہ کانفرنس میں یہ انکشاف کیا۔ انہوں نے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ چین اور روس پر جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے دباؤ  ڈالیں۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری بڑا جوہری ہتھیاروں کا معاہدہ نیو اسٹارٹ ختم ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کے ختم ہونے کے بعد دنیا کی دو سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے ہتھیاروں پر عائد پابندیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔
فورڈ نے کہا کہ نیو اسٹارٹ کی سب سے بڑی کمی یہ تھی کہ اس میں چین کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ روس کے غیر اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کے بڑے ذخیرے پر بھی معاہدے میں مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ چین نے جان بوجھ کر اور بغیر کسی روک ٹوک کے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں بڑا اضافہ کیا، جبکہ اس نے پہلے ایسا نہ کرنے کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ چین کے مقاصد اور اہداف کے بارے میں شفافیت کی شدید کمی ہے۔ ان کے مطابق چین اگلے چار یا پانچ برسوں میں جوہری طاقت کے معاملے میں برابری کی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔
یہ بیان جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے دوران دیا گیا۔ امریکی نمائندے نے پیر کے روز روسی وفد سے ملاقات کی اور منگل کو چینی اور دیگر ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کا منصوبہ بنایا۔ امریکہ پہلے ہی جوہری طاقت رکھنے والے ممالک جیسے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ کئی دور کی ملاقاتیں کر چکا ہے۔ نیو اسٹارٹ کے خاتمے کے بعد عالمی جوہری توازن غیر مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر چین کا جوہری پروگرام تیزی سے بڑھتا ہے تو امریکہ، روس اور چین کے درمیان نئی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تخفیف اسلحہ کی کوششیں مزید مشکل ہو سکتی ہیں کیونکہ شفافیت اور اعتماد دونوں کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top