انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں موجودہ کشیدہ حالات کے درمیان وہاں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔ خاص طور پر جموں و کشمیر سے آئے میڈیکل طلبہ مارچ میں ہونے والے امتحانات کی وجہ سے ہندوستان واپس نہیں لوٹ پا رہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں نے ابھی تک امتحانات ملتوی کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو وہیں رک کر امتحان دیں یا ہندوستان واپس آ کر ایک سال کی پڑھائی کو خطرے میں ڈال دیں۔
ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں ہندوستانی طلبہ میڈیکل پروگراموں میں داخل ہیں۔ آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس معاملے کو مرکزی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ تنظیم نے نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپیل کی ہے کہ ہندوستانی حکومت ایرانی حکام اور یونیورسٹیوں سے بات چیت کر کے امتحانات ملتوی کرنے کے امکان پر غور کرے۔
ایران میں زیر تعلیم طالب علم بلال بھٹ نے کہا کہ ہم گھر واپس آنا چاہتے ہیں۔ ہمارے خاندان فکرمند ہیں۔ لیکن مارچ میں امتحانات ہیں اور ملتوی ہونے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اگر امتحان رہ گیا تو پورا سال متاثر ہوگا۔ ایک اور طالب علم مسافد نے بھی یہی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پروازیں ابھی جاری ہیں، لیکن حالات کب بدل جائیں، اس بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ انخلا کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر تعلیمی کیلنڈر میں لچک دی جائے۔ جموں و کشمیر اے آئی ایم ایس اے کے صدر محمد مومن خان نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دفتر سے باضابطہ طور پر مدد کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ اپنی سلامتی اور تعلیم دونوں کے حوالے سے پریشان ہیں اور حکومت کی سفارتی کوششوں سے ہی کوئی حل نکل سکتا ہے۔
ایران میں روزمرہ زندگی کو معمول کے مطابق بتایا جا رہا ہے اور پروازیں بھی چل رہی ہیں، لیکن علاقائی کشیدگی کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ طلبہ اور ان کے اہل خانہ 'ویٹ اینڈ واچ ' (انتظار اور دیکھو ) کی کیفیت میں ہیں جہاں ایک طرف تعلیمی ذمہ داری ہے اور دوسری طرف سلامتی کے بارے میں تشویش۔