Latest News

برطانوی اکیڈمی فلم ایوارڈز میں نسلی تبصرے سے ہنگامہ ، بی بی سی اور بافٹا نے مانگی عوامی معافی

برطانوی اکیڈمی فلم ایوارڈز میں نسلی تبصرے سے ہنگامہ ، بی بی سی اور بافٹا نے مانگی عوامی معافی

لندن:  برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز (بافٹا ) اور بی بی سی نے اتوار کے شو کے دوران ایک نسلی تبصرہ نشر ہونے پر پیر کو معافی مانگی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلم  'سِنرز' کے دو اداکار اسٹیج پر موجود تھے۔ ٹوریٹ سنڈروم کے لیے مہم چلانے والے جان ڈیویڈسن نے کچھ قابل اعتراض الفاظ کہے تھے۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ بے حد شرمندہ ہیں اور انہوں نے جو کہا وہ ان کے ذاتی عقائد کی عکاسی نہیں کرتا۔ اتوار کو منعقدہ تقریب کے دوران انتہائی قابل اعتراض الفاظ اس وقت سنے گئے جب فلم سِنرز کے اداکار مائیکل بی جورڈن اور ڈیلرائے لِنڈو ' بہترین ویژول ایفیکٹس ' کا ایوارڈ پیش کر رہے تھے۔ یہ دونوں اداکار سیاہ فام ہیں۔
تقریب کے میزبان ایلن کمنگ نے اس سے پہلے ناظرین کو آگاہ کیا تھا کہ ٹوریٹ سنڈروم کے حامی جان ڈیویڈسن بھی وہاں موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد بافٹا نے ایسی توہین آمیز زبان کے لیے معافی مانگی جس سے بہت سے لوگوں کو گہرا صدمہ اور تکلیف پہنچی۔ ساتھ ہی بافٹا نے مائیکل اور ڈیلرائے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس صورت حال کو بہت وقار اور سمجھ داری کے ساتھ سنبھالا۔ ٹوریٹ سنڈروم سے متاثر افراد کے لیے مہم چلانے والے اسکاٹ لینڈ کے جان ڈیویڈسن نے پیر کو ایک بیان جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ایسا لگا ہو کہ ان کے غیر ارادی ٹکس یعنی اچانک ہونے والی حرکات یا الفاظ جان بوجھ کر کیے گئے تھے یا ان کا کوئی مطلب تھا تو وہ بے حد شرمندہ ہیں۔ ڈیویڈسن کی زندگی پر بافٹا کے لیے نامزد فلم ' سوئیر ' بنائی گئی ہے۔ ٹوریٹ سنڈروم ایک اعصابی بیماری ہے جو دماغ اور اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں شخص اچانک، بے قابو اور بار بار ہونے والی جسمانی حرکات یا آوازیں نکالتا ہے جنہیں  'ٹِکس ' کہا جاتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top