Latest News

امریکہ کے سینئر فوجی ماہر کا تیکھا طنز، ٹرمپ جلد باز اور جذباتی صدر، پالیسیاں اور دشمن ارب پتی طے کرتے ہیں

امریکہ کے سینئر فوجی ماہر کا تیکھا طنز، ٹرمپ جلد باز اور جذباتی صدر، پالیسیاں اور دشمن ارب پتی طے کرتے ہیں

 واشنگٹن: امریکہ کے سینئر فوجی ماہر اور سابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک ' غیر یقینی، جلد باز  اورجذباتی رہنما قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ٹرمپ آزادانہ طور پر فیصلے کرنے والے لیڈر نہیں ہیں بلکہ ان کی پالیسیاں چند منتخب ارب پتی عطیہ دہندگان کے اثر و رسوخ کے تحت طے ہوتی ہیں۔
اے این آئی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں میک گریگر نے کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی آزاد ہوتے تو ان کا رویہ اور فیصلے بالکل مختلف ہوتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آٹھ سے دس نہایت طاقتور ارب پتی افراد انتخابی فنڈنگ کے ذریعے یہ طے کرتے ہیں کہ امریکہ کے اہم اہداف کون سے ہوں گے۔ میک گریگر کے مطابق، ٹرمپ کا یوکرین جنگ کو ایک فون کال میں ختم کرنے کا دعوی ان کی سنجیدہ حکمت عملی کی سمجھ کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو نہ اس تنازع کی گہرائی کی صحیح سمجھ تھی اور نہ ہی عالمی طاقت کے توازن کا درست اندازہ۔ انہوں نے صدارتی عہدے کی طاقت کو ضرورت سے زیادہ سمجھ لیا۔
امریکی فوجی ماہر نے ہندوستان ، چین، روس اور ایران کو تہذیبی ریاستیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی اپنی گہری تاریخی شناخت اور آزاد پالیسیاں ہیں، جنہیں ٹرمپ سمجھنے میں ناکام رہے۔ میک گریگر کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کسی مضبوط حکمت عملی پر نہیں بلکہ مالی طاقت اور بااثر لابی  کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دعوی کیا کہ روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کی سمت پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صدر پوتن اور زیلنسکی کے درمیان گہری دشمنی امن عمل کو مشکل بنا رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top