واشنگٹن: امریکہ نے شام میں جوابی حملوں کے تیسرے مرحلے میں القاعدہ سے وابستہ ایک اعلیٰ دہشت گرد رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دہشت گرد براہِ راست اس اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس ) کے رکن سے منسلک تھا جس نے گزشتہ ماہ شام میں گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ جمعے کے روز شمال مغربی شام میں کیے گئے ایک درست حملے میں بلال حسن الجاسم مارا گیا۔ سینٹکام کے مطابق وہ ایک اعلی دہشت گرد منصوبہ ساز تھا اور 13 دسمبر کو ہونے والے اس حملے سے براہِ راست جڑا ہوا تھا جس میں سارجنٹ ایڈگر برائن ٹوریس ٹووار، سارجنٹ ولیم نیتھانیئل ہاورڈ اور امریکی شہری مترجم ایاد منصور سقات کی جان گئی تھی۔
امریکی کمان کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ تین امریکیوں کی ہلاکت سے وابستہ دہشت گرد کا خاتمہ یہ واضح کرتا ہے کہ ہماری افواج پر حملہ کرنے والوں کا تعاقب کرنے کا ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ جو لوگ امریکی شہریوں اور فوجیوں پر حملے کرتے ہیں، ان کی منصوبہ بندی کرتے ہیں یا انہیں اکساتے ہیں، ان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔ ہم آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ یہ کارروائی اس وسیع امریکی مہم کا حصہ ہے جس کا حکم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکیوں پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد دیا تھا۔ اس مہم کا مقصد ان آئی ایس آئی ایس کے شرپسندوں کو نشانہ بنانا ہے جو تاناشاہ بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینٹکام نے بتایا کہ ہاکی اسٹرائیک نامی اس مہم کے تحت امریکہ اور اس کے شراکت دار اردن اور شام نے اب تک آئی ایس کے ڈھانچے اور ہتھیاروں سے متعلق 100 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔