National News

اقوام متحدہ کے اجلاس سے پہلے امریکہ کا سخت قدم،فلسطینی صدر عباس اور 80 افسران کے ویزا رد

اقوام متحدہ کے اجلاس سے پہلے امریکہ کا سخت قدم،فلسطینی صدر عباس اور 80 افسران کے ویزا رد

 واشنگٹن/نیویارک: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلسطین کے صدر محمود عباس سمیت 80 دیگر عہدیداروں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ یہ قدم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس سے پہلے اٹھایا گیا، جس میں فلسطین کے نمائندوں نے بڑی ملاقات میں شامل ہو کر حصہ لیا تھا۔
 امریکی وزارت خارجہ نے کیا کہا؟
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم قومی سلامتی کے مفادات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی اتھارٹی (PA) اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو ان کے امن کی کوششوں میں کمی اور دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزامات کے لیے جوابدہ بنانا ہے۔
مختصراً، امریکہ چاہتا ہے کہ PA اور PLO:**

  •  دہشت گردی کی مسلسل مذمت کریں،
  •  تعلیم میں دہشت گردی کو فروغ نہ دیں (جیسے کہ PLO نے وعدہ کیا تھا)۔

کیا ہوا عباس اور دیگر نمائندوں کو؟
عباس سمیت کئی عہدیداروں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے، لیکن اقوام متحدہ کے نیویارک مشن پر کام کرنے والے نمائندوں کو خصوصی چھوٹ (ویور)دی گئی ہے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ یہ پہلا موقع سمجھا جا رہا ہے جب امریکہ نے کسی غیر ملکی نمائندہ وفد کو اتنی بڑی تعداد میں ویزے سے محروم کیا ہے۔
 کس نے کیا ردعمل دیا؟
فلسطینی اتھارٹی (PA) نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے اس فیصلے کو واپس لینے کی درخواست کی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفین ڈوجارک نے کہا کہ وہ امریکہ سے اس فیصلے پر وضاحت چاہتے ہیں، کیونکہ تمام ممبر اور مستقل نگران ممالک کی نمائندگی کی ذمہ داری برقرار رہنی چاہیے۔
 اس کا اثر:
یہ قدم اس وقت آیا جب کئی مغربی ممالک جیسے فرانس، کینیڈا، اور آسٹریلیااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے تھے۔ساتھ ہی ، امریکہ نے تقریبا 5 ارب ڈالر کی امداد، جس میں اقوام متحدہ اور امن مشن شامل ہیں، روکنے کا اعلان کیا۔ یہ سفارتی شکنجہ ایک گہرے اثر کی طرف اشارہ کرتا ہے: جہاں ایک طرف امریکہ اس اقدام سے عراق-فلسطین مسائل میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے، وہیں دوسری طرف دنیا کے کئی حصوں میں فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ۔
 



Comments


Scroll to Top