جموں: جموں و کشمیر پچھلے دو ہفتوں سے قدرتی آفات کی مسلسل زد میں ہے 14 اگست کے بعد سے خطے میں بار بار بادل پھٹنے، تودے گرنے اور اچانک سیلابی صورتحال نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ان سانحات میں اب تک 130 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، 140 سے زائد زخمی جبکہ 32 یاتری تاحال لاپتہ ہیں ریکارڈ بارش نے جموں خطے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جہاں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، درجنوں پل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں اور شاہراہوں و ریلوے ٹریک پر آمدورفت معطل ہو گئی۔ خصوصاً کٹرہ تا ویشنو دیوی مندر جانے والا راستہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے کئی دنوں سے بند ہے۔
قدرتی آفات کے اس تسلسل نے نہ صرف روزمرہ زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ حکومتی مشینری کو بھی بڑے پیمانے پر ریلیف اور ریسکیو آپریشنز میں جھونک دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوج، ایس ڈی آر ایف اور مقامی رضاکار لگاتار امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کی بڑی وجہ شدید بارشوں کے دوران نمی سے بھرے بادلوں کا کسی محدود علاقے پر اچانک اور بے تحاشا برسنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کشمیر کی وادی اور جموں کے پہاڑی خطے جغرافیائی طور پر ایسے مقام پر ہیں جہاں مون سون ہواوں کے دباو اور پہاڑی رکاوٹوں کے باعث بادل جمع ہو جاتے ہیں۔ جب یہ بادل اچانک پھٹتے ہیں تو مختصر وقت میں کئی ملی میٹر بارش ہوتی ہے، جو ندی نالوں میں طغیانی اور زمین کھسکنے کا سبب بنتی ہے۔‘
ان کے مطابق جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے بھی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔’زمین کی قدرتی ڈھلوانیں اور سبزہ زار بارش کے پانی کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن جب یہ ختم ہو جاتے ہیں تو پانی براہِ راست طغیانی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر میں پسیاں اور اچانک سیلابوں کی شدت بڑھ گئی ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پینل کے مطابق، ماحولیات نے برف پگھلنے اور بارش کے پیٹرن کو شدید متاثر کیا ہے۔ ’پچھلی دہائی میں وادی میں درجہ حرارت اور بارش کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کبھی بارشیں وقت پر اور اعتدال کے ساتھ ہوتی تھیں، لیکن اب مختصر مدت میں بے انتہا بارش ہو رہی ہے، جو بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے بڑے عوامل میں شمار کی جاتی ہے۔‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام متعلقہ محکموں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی نالوں اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی کہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ وقتی ریلیف کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ نشیبی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات پر پابندی، پہاڑی ڈھلوانوں پر بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جدید پیش گوئی کے نظام کو فعال بنانا لازمی ہے تاکہ آئندہ ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔