واشنگٹن:امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر سیاسی کھینچا تانی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے بدھ کے روز واضح کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے باوجود گرین لینڈ کے مستقبل کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار ہے۔
ٹرمپ کی ضد اور سکیورٹی خدشات۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کو اس جزیرے کو حاصل کرنے میں امریکہ کی مدد کرنی چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ روس اور چین کی نظریں گرین لینڈ پر ہیں، اس لیے سکیورٹی کے لحاظ سے امریکہ کا اس پر کنٹرول ہونا ضروری ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک نے امریکی دباو کے پیش نظر آرکٹک اور شمالی اٹلانٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بات چیت کا راستہ کھلا۔
اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خیالات سے متفق نہیں ہیں، لیکن وہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہیں۔ وزیر خارجہ راسموسن نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو آئندہ چند ہفتوں میں اپنی پہلی میٹنگ کرے گا تاکہ آگے بڑھنے کا مشترکہ راستہ تلاش کیا جا سکے۔
امریکی عوام فوجی کارروائی کے خلاف۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جہاں انتظامیہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے پر اڑی ہوئی ہے، وہیں امریکی عوام اس کے حق میں نہیں ہیں۔ کوئنیپیاک یونیورسٹی کے ایک نئے سروے کے مطابق دس میں سے نو امریکی ووٹر گرین لینڈ پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے خلاف ہیں، جبکہ صرف نو فیصد لوگ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کا موقف امریکہ کے عوامی بیانات سے مختلف ہے، لیکن وہ طویل مدتی مشترکہ خدشات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ ہر صورت اس خطے کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جبکہ ڈنمارک اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم نظر آ رہا ہے۔