واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے متعلق امریکی فوجی آپریشن کی کھل کر تعریف کی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے اس آپریشن کو “انتہائی شاندار اور منظم مشن” قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا، “بہت اچھی منصوبہ بندی تھی، بہترین فوجی تھے، بہترین لوگ تھے۔ یہ واقعی ایک شاندار آپریشن تھا۔
کانگریس کی منظوری پر ٹال مٹول
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لی گئی تھی، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا، “اس پر بات کریں گے۔ ہم ایک پریس کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔” ذرائع کے مطابق، ٹرمپ صبح 11:00 بجے (ای ایس ٹی) فلوریڈا میں واقع مار اے لاگو سے میڈیا سے خطاب کر سکتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں مادورو کی گرفتاری کے حالات، امریکی فوجی کارروائی کی قانونی بنیاد اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیل سے معلومات دی جا سکتی ہیں۔
عالمی ردِعمل پر نظر
ٹرمپ کے بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ، لاطینی امریکی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ردِعمل پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات کو کھلے تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے وینزویلا کی حکومت امریکی حملے کی تصدیق کر چکی ہے۔ صدر نکولس مادورو نے ملک میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے مسلح افواج کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا تھا۔ وینزویلا نے امریکی حملے کو اپنی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اقوام متحدہ، لاطینی امریکہ اور عالمی طاقتوں کے ردِعمل پر نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔ فی الحال امریکی انتظامیہ اور وینزویلا کی حکومت کی جانب سے کئی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لیکن حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔