حیدرآباد: ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ(اسرو) کا قابلِ اعتماد راکٹ پی ایس ایل وی سی 62 پیر کواپنے مشن میں ناکام ہو گیا یہ راکٹ ڈی آر ڈی او کے اہم ترین زمین مشاہداتی سیٹلائٹ ای او ایس این ون اور 15 دیگر ملکی و غیر ملکی سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا 22.5 گھنٹے کی الٹی گنتی کے بعد 44.4 میٹر بلند اور 260 ٹن وزنی اس راکٹ نے صبح 10.18بجے شاررینج کے پہلے لانچ پیڈ سے شاندار پروازکی۔ ابتدائی تین مراحل کی علیحدگی تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا لیکن اس کے بعد راکٹ میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور وہ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔
اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے مشن کنٹرول سنٹر سے سائنسدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”پہلے تین مراحل تک راکٹ کی کارکردگی نارمل تھی۔ اس کے بعد فنی خرابی پائی گئی اور فلائٹ اپنے راستے سے ہٹ گئی۔ یہ مشن مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ ہم ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں اور جلد تفصیلات فراہم کریں گے۔
ای او ایس۔ان ون سیٹلائٹ دفاعی مقاصد کے لئے تیار کیا گیا تھا جو دشمن کے چھپائے گئے فوجی اثاثوں، فوج کی نقل و حرکت اور ہتھیاروں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
اس مشن میں برازیل، نیپال، اسپین، فرانس، تھائی لینڈ اور برطانیہ کے 15 سیٹلائٹس بھی شامل تھے جو تباہ ہو گئے۔یہ مئی 2025 میں پی ایس ایل وی۔سی 61 ناکامی کے بعد اسرو کا دوسرا بڑا جھٹکا ہے۔ 2025 میں ہی جی ایس ایل وی ایف 15 بھی ناکام ہوا تھا۔اس مشن میں تھیوس2 (تھائی لینڈ/برطانیہ)، (نیپال)، برازیل کے کئی تعلیمی سیٹلائٹس اور ہندوستان کے اسٹارٹ اپس (دھرواسپیس) کے ٹکنالوجی ڈیمونسٹریٹر شامل تھے۔ اسپین کا کڈکیپسول جسے زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے کا تجربہ کرنا تھا، وہ بھی مشن کی ناکامی کی نذر ہو گیا۔مئی 2025 میں پی ایس ایل وی۔سی 61 کی ناکامی کے بعد اسرو کے لئے یہ مشن واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن اس ناکامی نے خلائی پروگرام کے لئے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔