Latest News

ٹرمپ کی فرانس کو کھلی دھمکی : کہا- انکار پڑے گا بھاری ، فرانسیسی وائن پر لگا دو ں گا  200 فیصد ٹیرف

ٹرمپ کی فرانس کو کھلی دھمکی : کہا- انکار پڑے گا بھاری ، فرانسیسی وائن پر لگا دو ں گا  200 فیصد ٹیرف

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جارحانہ تجارتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے فرانس کو کھلی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر فرانس ان کے مجوزہ ' بورڈ فار پیس'  میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے تو فرانسیسی  وائن ( شراب ) اور شیمپین پر200  فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی اور تعمیر نو کے لیے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ وہ خود اس بورڈ فار پیس کی قیادت کریں گے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے فرانس سمیت کئی ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت بھیجی تھی۔
تاہم فرانس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک اعلی فرانسیسی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ فرانس کا اس بورڈ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عہدیدار کے مطابق اس بورڈ کا چارٹر اقوام متحدہ کے کردار کو نظر انداز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جو سنگین تشویش کا باعث ہے۔ فرانس کا خیال ہے کہ غزہ جیسے حساس معاملے پر اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو کمزور کرنا عالمی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ فرانس کے وزیر زراعت نے ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے بلیک میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی دباؤ کے ذریعے کسی خودمختار ملک کو سیاسی فیصلے پر مجبور کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ فرانس میں شراب کی صنعت ملک کی معیشت اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے 200  فیصد ٹیرف کی دھمکی کو نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی اقوام متحدہ کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے اور امریکہ مرکز عالمی نظام قائم کرنے کی سمت ایک اور قدم ہے۔ ناقدین کے مطابق بورڈ فار پیس جیسی کوششیں نہ صرف اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ غزہ بحران کے حل کو مزید پیچیدہ بھی بنا سکتی ہیں۔ فرانس کے انکار اور امریکہ کی ٹیرف دھمکی نے ایک بار پھر ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں تنا ؤ پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top