اوٹاوا :خالصتانی تحریک کو لے کر پاکستان کا کردار ایک بار پھر بین الاقوامی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ کینیڈا کے سینئر اور تجربہ کار صحافی ٹیری مائیلوسکی نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ تحریک پاکستان کی حمایت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق، خالصتان حمایتیوں کی پوری حکمت عملی اس بات پر ٹکی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کو ناراض نہ کریں، کیونکہ یہی اس تحریک کا سب سے اہم خارجی سہارا رہا ہے۔ اگر خالصستانی اپنے نقشے میں پاکستان کے حصوں پر دعویٰ کرنا شروع کر دیں، تو انہیں پاکستانی حمایت نہیں ملے گی اور ان کا استقبال ویسے نہیں ہوگا جیسے گرین لینڈ میں ٹرمپ کا ہوا۔
1940 کی دہائی سے دی جا رہی حمایت
حال ہی میں ایک انٹرویو میں مائیلوسکی نے کہا کہ پاکستان اور خالصتان تحریک کا تعلق نیا نہیں ہے۔ یہ رشتہ 1940 کی دہائی سے شروع ہو کر 1970–80 کی دہائی میں کھل کر سامنے آیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش جنگ میں بھارت سے شکست کے بعد پاکستان نے بھارت کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی پالیسی اپنائی، جس میں پنجاب میں علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دینا ایک حکمت عملی ہتھیار بن گیا۔
انتہاپسندوں کو محفوظ پناہ دینے کا الزام
1980 اور 1990 کی دہائی میں خالصتان سے جڑے کئی انتہاپسند رہنماوں کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے ملنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کینیڈا میں 1985 کے ایئر انڈیا کنشک بم دھماکے کے ملزم تلوندر سنگھ پرمار کا نام بھی اسی سلسلے میں لیا جاتا ہے۔ مائیلوسکی کے مطابق ایسی مثالیں یہ دکھاتی ہیں کہ پاکستان نے اس تحریک کو صرف اخلاقی حمایت ہی نہیں، بلکہ حکمت عملی کی حفاظت بھی فراہم کی۔
بھارت میں خالصتان تحریک کا کوئی عوامی بنیاد نہیں
مائیلوسکی کا ماننا ہے کہ آج کے وقت میں بھارت کے پنجاب میں خالصتان تحریک کی کوئی ٹھوس عوامی بنیاد باقی نہیں رہی۔ انتخابی سیاست میں علیحدگی پسند تنظیموں کی مسلسل شکست اور عوام کی بے رخی یہ اشارہ دیتی ہے کہ یہ معاملہ اب مقامی سطح پر بے اثر ہو چکا ہے۔ ایسے میں تحریک کا وجود صرف غیر ملکی اور پاکستانی حمایت پر منحصر ہے۔
پاکستانی فنڈنگ کے ٹھوس شواہد نہیں
حالیہ برسوں میں کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں خالصتان حمایتی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔ حالانکہ مائیلوسکی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خالصستانی تنظیموں کو براہ راست پاکستانی فنڈنگ کے ٹھوس شواہد عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ فکری حمایت، پلیٹ فارم اور تشہیر کی سطح پر پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیری مائیلوسکی کے تجزیے کے مطابق، خالصتان تحریک کسی وسیع عوامی تحریک سے زیادہ ایک حکمت عملی منصوبہ بن چکی ہے، جسے پاکستان نے بھارت کے خلاف دباو¿ کے نقطہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ اگر پاکستان حمایت واپس لے لے، تو خالصتان تحریک قائم نہیں رہ سکے گی۔
خالصستانیوں کے نقشے میں ننکانہ صاحب شامل نہیں؟
ٹیری مائیلوسکی نے سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا ہے کہ خالصتان حمایتی نقشوں میں پاکستانی پنجاب کے ان علاقوں کو شامل ہی نہیں کیا جاتا، جو سکھ تاریخ اور ثقافت کے لیے بہت اہم ہیں۔ ننکانہ صاحب، لاہور اور آس پاس کے علاقے سکھ مذہب کی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں لیکن خالصتان تحریک کے تصور میں انہیں جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ مائیلوسکی کے مطابق اس کی وجہ واضح ہے کہ اگر خالصتان حمایتی پاکستان کے حصوں پر دعویٰ کریں، تو پاکستان ان کا استقبال ویسے ہی کرے گا، جیسے ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ والے دعوے کے ساتھ ہوا تھا۔