واشنگٹن: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے سینکڑوں مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کے خدشات کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ تہران نے 800 سے زائد مجوزہ پھانسیوں کو روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ ایران کی قیادت نے تمام طے شدہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہے جو کل ہونے والی تھیں۔ شکریہ۔ تاہم ایران میں حالات اب بھی انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہندوستان میں بھی اس معاملے کی گونج سنائی دی۔ جموں و کشمیر کے بارہمولہ سے رکن پارلیمان انجینئر رشید نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھ کر ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کی فوری اور محفوظ نکاسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب جموں و کشمیر میں ایران کے حق میں ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں بعض تنظیموں نے مغربی ممالک پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ بین الاقوامی برادری کا کہنا ہے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف اندرونی معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سنگین بحران ہے جس پر عالمی سطح پر ٹھوس اور یکساں ردعمل ضروری ہے۔
اسی دوران فرانس کے وزیر خارجہ ژین - نوئیل بیرو نے تصدیق کی کہ ایک فرانسیسی ایرانی خاتون حالیہ تشدد میں زخمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کو طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور فرانس اس کی حالت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیرو نے یہ بھی بتایا کہ تہران میں قائم فرانسیسی سفارت خانے نے ایران میں مقیم تقریباً ایک ہزار فرانسیسی شہریوں سے رابطہ کیا ہے۔ ادھر کینیڈا نے ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اپنے ایک شہری کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔