Latest News

یوکرین جنگ کے بعد بدلی یورپ کی سوچ: امریکہ پر انحصار کم ہوا، ہندوستان بنا یورپی یونین کا نیا تزویراتی سہارا

یوکرین جنگ کے بعد بدلی یورپ کی سوچ: امریکہ پر انحصار کم ہوا، ہندوستان بنا یورپی یونین کا نیا تزویراتی سہارا

واشنگٹن: یورپی کمیشن اور یورپی یونین کی اعلی قیادت کے ہندوستان  کے دورے کو محض ہندوستان یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے تک محدود نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اسے ایک بڑے تزویراتی اشارے کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ خارجہ امور کے ماہر روبندر سچدیوا کے مطابق یہ دورہ عالمی جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور امریکہ کے ساتھ یورپ کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پس منظر میں نہایت اہم ہے۔ گفتگو کے دوران سچدیوا نے کہا کہ یورپ اس وقت امریکہ، روس اور چین تینوں کے دبا ؤکا سامنا کر رہا ہے۔
یوکرین کی جنگ، روس پر عائد پابندیوں اور روسی گیس کی فراہمی بند ہونے کے باعث یورپ کی تزویراتی اور توانائی سلامتی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب چین یورپ کی آزاد خیال سوچ سے نظریاتی طور پر مختلف ہونے کے باوجود اب بھی اس کی صنعتی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں یورپی یونین ہندوستان کو اپنی جغرافیائی سیاسی اور معاشی حکمت عملی کا چوتھا ستون سمجھنے لگی ہے۔ سچدیوا کے مطابق یورپی یونین کو طویل مدتی استحکام، قابلِ اعتماد شراکت دار اور متنوع تجارتی ڈھانچے کی ضرورت ہے، اور ہندوستان ایک بڑا، ابھرتا ہوا اور تزویراتی خود مختاری رکھنے والا ملک ہونے کے باعث اس کردار کے لیے موزوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف آزاد تجارتی معاہدے تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستان  کے لیے بیس کھرب ڈالر کی یورپی یونین کی معیشت تک رسائی اہم ہے، جبکہ یورپ کے لیے ہندوستان ایک ایسا بازار ہے جو چین پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جہاں ہندوستان نے ہمیشہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی ہے، وہیں یورپ اب امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سچدیوا نے ایران اور وینزویلا جیسے عالمی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور روایتی اتحاد کمزور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان - یورپی یونین تعلقات نئی عالمی ترتیب میں خاص تزویراتی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top