واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک بیان سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تیزی سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی کی کوشش کیوں نہیں کر رہے ہیں، تو ٹرمپ نے مختصر لیکن گہرے معنی والا جواب دیا، عراق کو یاد کیجیے۔ ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ بیان 2003 کی عراق جنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے امریکہ کی سب سے متنازع فوجی مداخلتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد عراق میں طویل عرصے تک عدم استحکام، تشدد اور انسانی بحران دیکھنے میں آیا۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر عراق جنگ کو بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔
When Trump was asked why he’s not attempting regime change in Venezuela
His response: “Remember Iraq?”
This clip gives me peace of mind on Trump’s foreign policy plans, including Iran.
pic.twitter.com/hWQR0mTvzy
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 17, 2026
ایران اور مشرق وسطی سے تعلق؟
وینزویلا طویل عرصے سے سیاسی، معاشی اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے وہاں کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ فوجی یا زبردستی اقتدار کی تبدیلی کے حامی نہیں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف صرف وینزویلا تک محدود نہیں ہے۔ ایران اور مشرق وسطی کے معاملات میں بھی وہ براہ راست جنگ یا اقتدار کی تبدیلی سے بچنے کی پالیسی اختیار کرنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی اس بیان کو متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کی مثال قرار دے رہے ہیں۔
حمایت اور تنقید دونوں
ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق جنگ سے سبق لیتے ہوئے غیر ضروری جنگوں سے بچنا امریکہ اور دنیا دونوں کے مفاد میں ہے۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ صرف عدم مداخلت کی پالیسی اپنانے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آمرانہ حکومتوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس ایک جملے نے امریکی خارجہ پالیسی پر بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔ عراق کو یاد کیجیے کہہ کر انہوں نے یہ واضح اشارہ دیا کہ مستقبل میں وہ فوجی مداخلت کے بجائے سفارت کاری اور احتیاط کو ترجیح دینے کی سوچ رکھتے ہیں۔