Latest News

ٹرمپ نے پھر پھوڑا ٹیرف بم، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر لگایا 25 فیصد اضافی ٹیکس

ٹرمپ نے پھر پھوڑا ٹیرف بم، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر لگایا 25 فیصد اضافی ٹیکس

 انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک بڑا معاشی قدم اٹھایا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اس ملک پر امریکہ کے ساتھ ہونے والی تجارت میں 25  فیصد ٹیرف یعنی اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کر کے اس ٹیرف کی جانکاری دی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹروتھ پر لکھا کہ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اسے امریکہ کے ساتھ ہونے والی ہر تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ یہ حکم حتمی اور مکمل طور پر نافذ ہے۔ ٹرمپ نے اسے فائنل اینڈ کنکلوژِو یعنی آخری اور بغیر کسی تبدیلی والا حکم قرار دیا ہے۔

PunjabKesari
 وائٹ ہاؤس نے واضح کیا، فوجی حملہ بھی آپشن میں شامل
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضائی حملے بھی صدر کے سامنے موجود کئی آپشنز میں سے ایک ہیں۔ تاہم سفارت کاری صدر کی پہلی ترجیح رہتی ہے۔
 مظاہرین پر تشدد کو لے کر ٹرمپ سخت ناراض 
ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل ایران کی حکومت کو وہاں کے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے پر خبردار کر رہے ہیں۔  انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین پر تشدد نہیں رکا تو امریکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ حالات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور فوجی جوابی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا تو امریکہ کیا کرے گا، تو ٹرمپ نے کہا کہ ہم انہیں اس سطح پر ماریں گے جیسا انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
 ٹرمپ بولے، ایران میری ریڈ لائن کے قریب
ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ان کی طے کی گئی ریڈ لائن کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس حد کو عبور کرنے ہی والے ہیں۔
 ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر سازش کا الزام لگایا 
ایران کے صدر مسعود پیزیشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران میں بدامنی پھیلا کر ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی شکایات سنے گی، لیکن تشدد پھیلانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ فسادیوں اور دہشت گردوں سے دور رہیں۔
 ایران میں حالات انتہائی خراب، سینکڑوں ہلاک 
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک کم از کم 648 افراد مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں 10,600 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے جاری کیے ہیں۔
 دنیا پر بھی پڑے گا اثر 
اب امریکہ کا یہ نیا ٹیرف فیصلہ صرف ایران پر ہی نہیں بلکہ ان تمام ممالک پر اثر ڈالے گا جو ایران سے تیل، گیس یا دیگر تجارت کرتے ہیں۔ اس سے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔
 ہند اور ایران کے درمیان تجارت کا حال
ہند اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات مسلسل بدلتے رہے ہیں۔ مالی سال 2022-23   میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی دو طرفہ تجارت 2.33 ارب ڈالر رہی۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 21.76 فیصد اضافہ تھا، یعنی اس سال تجارت میں اچھی تیزی دیکھنے کو ملی۔
 ہند سے ایران کو کتنی برآمدات ہوئیں 
مالی سال 2022-23 میں ہند نے ایران کو 1.66 ارب ڈالر کا سامان برآمد کیا۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 14.34 فیصد زیادہ تھا۔ ہند ایران کو چاول، چائے، ادویات، کیمیکل، زرعی مصنوعات اور انجینئرنگ سے متعلق سامان برآمد کرتا ہے۔
 ایران سے ہند نے کیا درآمد کیا 
اسی مدت میں ہند نے ایران سے 672.12 ملین ڈالر کی درآمد کی، جو 45.05 فیصد کے بڑے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران سے ہند بنیادی طور پر پیٹروکیمیکلز، کھاد، معدنیات اور دیگر توانائی سے متعلق مصنوعات خریدتا ہے۔
2023-24   میں تجارت میں کمی
جاری مالی سال 2023-24  میں اپریل سے جولائی 2023 کے دوران ہند اور ایران کے درمیان مجموعی تجارت گھٹ کر 660.70 ملین ڈالر رہ گئی۔
اس مدت میں ہند کی ایران کو برآمدات 455.64 ملین ڈالر رہیں۔
ہند کی ایران سے درآمدات 205.14 ملین ڈالر رہیں
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23.32  فیصد کم ہو گئی ہے۔



Comments


Scroll to Top