منییاپولیس: امریکہ میں ریاست مینیسوٹا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر جمعہ کو امیگریشن انفورسمنٹ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تقریباً 100 پادریوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ اس دوران سخت سردی کے باوجود ہزاروں افراد منییاپولیس کے مضافاتی علاقے میں ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن کارروائیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرے پوری ریاست میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف جاری وسیع تحریک کا حصہ ہیں۔ مزدور یونینوں، ترقی پسند تنظیموں اور مذہبی رہنماو¿ں نے مینیسوٹا کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کام، اسکول اور یہاں تک کہ دکانوں پر بھی نہ جائیں۔
میٹروپولیٹن ایئرپورٹس کمیشن کے ترجمان جیف لی نے بتایا کہ پادریوں کو غیر قانونی داخلے اور امن افسر کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں معمولی جرم کے نوٹس جاری کیے گئے اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔ انہیں منییاپولیس سینٹ پال بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مرکزی ٹرمینل کے باہر اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ فضائی خدمات میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ مظاہرین نے امریکہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ آئی سی ای سے مینیسوٹا چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے منتظمین نے بتایا کہ پوری ریاست میں یکجہتی کے طور پر 700 سے زائد کاروبار بند رہے۔ اس دوران محکمہ داخلہ نے تصدیق کی کہ دو سالہ اور پانچ سالہ بچوں کو ان کے والد کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے۔ دراصل مینیسوٹا میں وفاقی ایجنٹ سکول سے گھر واپس آ رہے پانچ سالہ بچے کو اس کے والد کے ساتھ ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز میں لے گئے۔