انٹر نیشنل ڈیسک : کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا، بس اسے کرنے کا نظریہ بڑا ہونا چاہیے۔ انگلینڈ کے رہنے والے 39 سالہ کائل نیوبی نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ جس کام کو دیکھ کر لوگ ناک بھویں سکوڑ لیتے ہیں، اسی ڈاگ پوپ کلیننگ ( کتوں کی گندگی صاف کرنا) کو کائل نے ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے۔ آج وہ اس کام سے ہر ہفتے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔
انسٹاگرام سے ملی تحریک، فیس بک سے ملی پہچان
پیشہ کے اعتبار سے بلڈر کائل نیوبی کو اس منفرد کاروبار کا خیال سوشل میڈیا سے ملا۔ کائل نے انسٹاگرام پر دیکھا کہ امریکہ میں لوگ کتوں کی گندگی صاف کرنے کی پیشہ ورانہ سروس دے کر اچھی خاصی کمائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے انگلینڈ میں شروع کیا جائے۔ انہوں نے اپنی سروس کا نام 'پیٹ پو پک ' (Pet Poo Pick)رکھا اور فیس بک پر ایک پوسٹ ڈالی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے پاس آرڈرز کی قطار لگ گئی۔

یہ پوپ پک اپ بزنس کیسے کام کرتا ہے
کائل کا کام کرنے کا طریقہ بہت ہی پیشہ ورانہ اور تیز ہے۔ وہ جدید اسکوپر اور خصوصی تھیلے لے کر گاہکوں کے باغیچوں میں جاتے ہیں۔ اوسطا ایک باغیچے میں چودہ سے پندرہ گندگی کے ڈھیر ہوتے ہیں جنہیں صاف کرنے میں انہیں صرف دس سے پندرہ منٹ لگتے ہیں۔ کام مکمل کرنے کے بعد وہ پورے علاقے کو اسپرے سے جراثیم سے پاک کرتے ہیں تاکہ بدبو اور بیکٹیریا مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔
کمائی کا حساب، ساٹھ روپے فی گھنٹہ نہیں، پانچ ہزار روپے فی گھنٹہ
کائل کی کمائی کا ماڈل جان کر کوئی بھی حیران رہ سکتا ہے۔
پہلی سروس کی فیس: تقریباً تین ہزار تین سو روپے (چالیس ڈالر ) ہے۔
ہفتہ وار دیکھ بھال کی فیس: تقریبا ایک ہزار چھ سو پچاس روپے( بیس ڈالر )ہے۔
ہفتہ وار کمائی : ہفتے میں صرف چند گھنٹے کام کر کے وہ دو لاکھ سے دو لاکھ بیس ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔
سالانہ کاروبار: ان کی سالانہ آمدنی تقریبا 32لاکھ روپے کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ٹرولرز کو دیا کرارا جواب
سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ لوگ اب اتنے سست ہو گئے ہیں کہ اپنے کتے کی گندگی بھی خود صاف نہیں کرتے۔ اس پر کائل نے دل جیت لینے والا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے زیادہ تر گاہک بزرگ ہیں یا جسمانی طور پر معذور ہیں۔ کچھ لوگ بیساکھی کے سہارے چلتے ہیں اور ان کے لیے باغیچے میں جھک کر صفائی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں صرف گندگی صاف نہیں کرتا بلکہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہوں جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔