واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے بارے میں جارحانہ بیانات اور ٹیرف بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد یورپی یونین محتاط ہو گئی ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی یونین سے امریکہ کے خلاف سخت تجارتی جوابی اقدامات پر غور کرنے کو کہا ہے۔ میکرون نے جس اقدام کا ذکر کیا ہے، اسے غیر رسمی طور پر 'ٹریڈ بازوکا' کہا جا رہا ہے۔ اس کا سرکاری نام 'اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ ' (ACI)ہے۔ اس نظام کے تحت یورپی یونین ان ممالک، کمپنیوں یا اداروں کے خلاف سخت کارروائی کر سکتا ہے جو یورپ پر معاشی یا سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں۔
اگر اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ نافذ کیا گیا تو امریکی کمپنیوں کو یورپی منڈی میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ انہیں یورپی یونین کے سرکاری ٹینڈروں سے باہر کیا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور درآمدات و برآمدات پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں فی الحال فرانس کے علاوہ اس قدم کی خاص حمایت نہیں ہے۔ ڈاووس میں خطاب کرتے ہوئے میکرون نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے نئے ٹیرف عائد کیے تو یورپی یونین کو پہلی بار اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاگل پن ہوگا کہ ہمیں اپنے اتحادی امریکہ کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کرنا پڑے۔ بہتر ہوتا کہ ہم یوکرین میں امن پر توجہ دیتے۔ لیکن بلا وجہ کی جارحیت ہمیں مجبور کر سکتی ہے۔
میکرون نے اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ کو ایک نہایت طاقتور ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے مشکل عالمی ماحول میں اس کے استعمال سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔ یورپی یونین کے رہنما جمعرات کو برسلز میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس کریں گے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنا پر گفتگو ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ 2021 میں تیار کیا گیا تھا جب چین نے تائیوان سے تعلقات کے باعث لتھوانیا کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد خوف پیدا کر کے دباؤ کی سیاست کو روکنا ہے۔ اینٹی کوئیرشن انسٹرومنٹ کو نافذ کرنے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارت1.7 ٹریلین یورو یعنی تقریبا دو ٹریلین ڈالر رہی۔ یورپ امریکہ کو سب سے زیادہ ادویات، گاڑیاں، طیارے، کیمیکل، طبی آلات اور شراب برآمد کرتا ہے۔