Latest News

ایران میں حالات بگڑتے ہی ہلچل تیز، ایرانی وزیر خارجہ نے جے شنکر سے کی بات چیت

ایران میں حالات بگڑتے ہی ہلچل تیز، ایرانی وزیر خارجہ نے جے شنکر سے کی بات چیت

نیشنل ڈیسک: ایران میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بدھ کے روز ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے گفتگو کی۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے فون آیا، جس میں ایران اور اس کے اطراف کے حالات پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ گفتگو کے دوران خطے میں تیزی سے بدلتی صورت حال اور اس سے جڑی تشویشات پر غور کیا گیا۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور مغربی ایشیا کے کئی حصوں میں حالات مسلسل کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات نے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ  ہندوستان سمیت کئی دیگر ملکوں کی تشویش بھی بڑھا دی ہے۔ ہندوستانی حکومت پورے معاملے پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، جن میں اب تک 2500 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
 ہندوستان نے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی
دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے جب  ہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اگلے حکم تک  ہندوستانی شہریوں سے ایران کا سفر نہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ یہ ایڈوائزری تہران میں واقع  ہندوستانی  سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سیاح دستیاب سفری ذرائع، خاص طور پر تجارتی پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔ ایران میں تقریباً دس ہزار ہندوستانی  شہری مقیم ہیں، جن میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے طلبہ، طبی ماہرین اور کاروباری افراد شامل ہیں۔
دہلی میں ایرانی سفارت خانے کا بیان
اسی دوران دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی فیصلوں کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے۔ سفارت خانے نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلوں سے عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔ اس میں غلط طریقے سے محصولات عائد کرنا اور بین الاقوامی اداروں سے علیحدگی شامل ہے۔ سفارت خانے نے کہا کہ اگر ممالک خاموش رہے تو خطرہ مزید بڑھے گا اور وقت کے ساتھ یہ فیصلے ہر ملک کو متاثر کریں گے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
ایران میں مظاہروں کی اصل وجہ
ایران میں 28 دسمبر سے خراب معاشی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اب تک 31 سے زیادہ صوبوں میں 500 سے زائد احتجاجی مظاہرے درج کیے جا چکے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عام لوگ ناراض ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ گزشتہ تین برسوں میں ایرانی حکومت کے سامنے سب سے سنگین اندرونی بحران ہے۔ پہلے ہی بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ایران کے لیے حالات مزید مشکل ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ سال ہونے والے حملوں کے بعد۔
 



Comments


Scroll to Top