National News

یورپی یونین کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور توانائی و آبی منصوبوں پر حملے روکنے کا مطالبہ

یورپی یونین کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور توانائی و آبی منصوبوں پر حملے روکنے کا مطالبہ

انٹرنیشنل ڈیسک:جنگ کے سبب بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے برسلز میں ہونے والی یورپی یونین کے رہنماوں کی میٹنگ میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مغربی ایشیا میں پانی اور توانائی کے ڈھانچے پر فضائی حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یورپی کونسل کے نام سے جانی جانے والی 27 یورپی یونین ممالک کے تمام سربراہوں نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے توانائی کی فراہمی کو مستحکم کرنے اور جنگ میں شامل فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی۔
بیان میں کہا گیا۔ یورپی کونسل جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور معاشی استحکام سمیت دشمنی کے دور رس اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان رہنماو¿ں نے ایران سے خلیج فارس کے پار پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کی اپیل کی۔ مغربی ایشیا میں ممکنہ بڑے پیمانے کے مہاجر بحران کو روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون مانگا اور کہا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔
یورپی یونین کے رہنماوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے ممالک سے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے فوجی ساز و سامان بھیجنے کو کہا تھا۔ آبنائے ہرمز تیل۔ گیس اور کھاد کی عالمی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ جنگ کے سبب توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یورپ میں نئے مہاجر بحران کے خدشات نے رہنماوں کو سربراہی اجلاس میں مغربی ایشیا کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا۔
سربراہی اجلاس سے پہلے بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے کہا۔ ہم توانائی کے بحران کو لے کر بہت فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے بھی توانائی کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں لیکن اس تنازع نے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ نقدی کے بحران سے جوجھ رہے اور جنگ زدہ یوکرین کو بھاری قرض دینے کی مخالفت روکنے کے لیے ہنگری کو راضی کرنے میں ناکام رہنے کے بعد رہنماوں نے یوکرین کے لیے متبادل مالی مدد پر بھی بات کی۔



Comments


Scroll to Top