Latest News

طالبان کی کھلی دھمکی :نیٹو طرز کی حکمت عملی اپنائی تو پاکستان کو مٹانے کے لئے ایک دن کافی ہوگا

طالبان کی کھلی دھمکی :نیٹو طرز کی حکمت عملی اپنائی تو پاکستان کو مٹانے کے لئے ایک دن کافی ہوگا

انٹرنیشنل ڈیسک: افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے خوست صوبے میں ایک خطاب کے دوران پاکستان کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان نے پاکستان کے خلاف وہی حکمت عملی اپنائی جو نیٹو افواج کے خلاف اپنائی تھی تو نقشہ بدلنے کے لیے ایک دن بھی کافی ہوگا۔ اگرچہ اس بیان کو سیاسی اور جذباتی تنبیہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اس سے خطے میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
نیٹو کے خلاف استعمال ہونے والا گوریلا ماڈل
حقانی نیٹ ورک نے 20 برس تک نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف گوریلا اور خودکش حملوں کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ 2021 میں امریکی انخلا کے دوران کابل میں ہونے والے شدید بم دھماکے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ حقانی کا اشارہ اسی طرح کی حکمت عملی کی طرف سمجھا جا رہا ہے تاہم انہوں نے براہ راست کسی حملے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
ٹی ٹی پی کا اعلان اور بڑھتا ہوا چیلنج
اسی دوران تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر حملوں کی بات کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کا خیبر پختونخوا میں اثر و رسوخ مانا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی داخلی سکیورٹی صورتحال چیلنجنگ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ پاکستان حکومت نے اب تک ان بیانات پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل نہیں دیا لیکن سرحد پر کشیدگی اور سکیورٹی الرٹ کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
دو الگ ماڈل : کھلی جنگ بمقابلہ چھپی ہوئی جنگ
طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب جہاں روایتی فوجی تیاری کی بات کرتے ہیں وہیں حقانی کا بیان بظاہر غیر روایتی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو یہ تنازع روایتی سرحدی جنگ کے بجائے اندرونی عدم استحکام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
کیا بڑی جنگ ممکن ہے
موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی تیز ہے لیکن براہ راست جنگ کے امکان پر کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا ہے۔ علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے بداعتمادی اور سرحدی تنازعات سے متاثر رہے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور عسکری سرگرمیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جو پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے چیلنج ہوگا۔
 



Comments


Scroll to Top