Latest News

طالبان کا راولپنڈی پر بڑا حملہ ، نور خان ایئر بیس کو بنایا نشانہ ، 32 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

طالبان کا راولپنڈی پر بڑا حملہ ، نور خان ایئر بیس کو بنایا نشانہ ، 32 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

انٹر نیشنل ڈیسک:  ڈیورنڈ لائن پر جاری کشیدگی اب ایک بھیانک جنگ میں بدل چکی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے دعوی کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے اندر گھس کر راولپنڈی میں واقع اہم  'نور خان ایئر بیس'  سمیت کئی فوجی ٹھکانوں پر زوردار حملہ کیا ہے۔ یہ وہی فضائی اڈہ ہے جسے پچھلے سال  ہندوستان  نے' آپریشن سندور ' کے دوران نشانہ بنایا تھا۔ طالبان کی اس جوابی کارروائی سے پورے جنوبی ایشیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
طالبان کے نشانے پر پاکستانی فوجی مقامات
طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق اتوار کو افغان فوج نے پاکستان کے تزویراتی طور پر اہم ٹھکانوں پر حملے کیے۔
نور خان ایئر بیس  (راولپنڈی ) : پاکستانی فضائیہ کے اس سب سے بڑے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
بارہویں کور (  کوئٹہ بلوچستان) :  کوئٹہ میں واقع فوج کی کور پر فضائی حملے کا دعوی کیا گیا ہے۔
خویجو فوجی کیمپ  ( خیبر پختونخوا)  :  خیبر پختونخوا کی موہمند ایجنسی میں بنے فوجی کیمپ کو بھی بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ جنگ کیوں شروع ہوئی؟
 طالبان کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت نے بتایا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے ہفتہ کی رات کابل، بگرام اور ننگرہار صوبے میں کی گئی بمباری کا بدلہ ہے۔ پاکستان نے ننگرہار کے غنی خیل ضلع میں ڈرون سے  عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
نقصان کا بڑا دعوی: 32  فوجی ہلاک
 رپورٹ کے مطابق طالبان نے اس جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کیا ہے۔ جوابی حملوں میں پاکستانی فوج کے32 جوانوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ افغان فوج نے پاکستان کے دو نگرانی کرنے والے ڈرون کو بھی فضا میں ہی مار گرایا۔ اتوار کی صبح گیارہ بجے طالبان کی فضائیہ نے کوئٹہ میں پاکستانی فوج کی کور پر براہ راست فضائی حملہ کیا۔
 



Comments


Scroll to Top