Latest News

ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی موت پر بھڑکے ٹرمپ ، آئی آر جی سی کو واضح وارننگ، ہتھیار ڈال دو ورنہ انجام یقینی

ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی موت پر بھڑکے ٹرمپ ، آئی آر جی سی کو واضح وارننگ، ہتھیار ڈال دو ورنہ انجام یقینی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں مارے گئے تین امریکی فوجیوں کا بدلہ لینے کی قسم کھائی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔ میزائل حملوں، ڈرون اٹیک اور خلیجی ممالک میں تباہی سے مشرق وسطیٰ جنگ کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو پیغام میں ایران کی ریوولوشنری گارڈ اور فوج کو خبردار کیا کہ ہتھیار ڈال دو اور مکمل استثنیٰ حاصل کرو، ورنہ یقینی موت کا سامنا کرو۔ پینٹاگون کے مطابق ایپک فیوری آپریشن میں تین امریکی فوجی مارے گئے اور پانچ شدید زخمی ہوئے۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ تنازع ختم ہونے سے پہلے مزید اموات ہو سکتی ہیں۔


آئی آر جی سی کا ہیڈکوارٹر تباہ۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور کے ہیڈکوارٹر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ یو ایس سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کر کے کہا کہ اب آئی آر جی سی کا کوئی ہیڈکوارٹر باقی نہیں رہا۔ ایران کی عدلیہ نے تصدیق کی کہ خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی اور ریوولوشنری گارڈ کے سربراہ جنرل محمد پاکپور بھی مارے گئے ہیں۔
ایران کا جوابی حملہ۔

  • ایران نے جواب میں میزائل اور ڈرون سے کئی حملے کیے۔
  • اسرائیل کے بیت شیمش شہر میں کم از کم 9 افراد کی موت۔
  • متحدہ عرب امارات میں 3 افراد کی موت۔
  • عمان کے دقم پورٹ پر ڈرون حملہ۔
  • آبنائے ہورمز میں تین جہازوں پر حملہ۔
  • حزب اللہ نے بھی لبنان سے راکٹ داغے۔ کہا کہ جارحیت کا مقابلہ کرنا ان کا فرض ہے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خامنہ ای کے قتل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ قرار دیا۔
  • علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ آج ہم انہیں ایسی طاقت سے ماریں گے جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔
  • ایران نے آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عبوری قیادت کونسل میں شامل کیا ہے۔ جب تک نیا سپریم لیڈر منتخب نہیں ہو جاتا۔

بتا دیں کہ مشرق وسطیٰ اس وقت 1979 کے بعد کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ ایران براہ راست ٹکراو، خلیجی ممالک میں حملے، تیل کی فراہمی کو خطرہ اور سیاسی ہلچل، یہ تنازع اب علاقائی جنگ سے عالمی بحران میں بدلنے کے دہانے پر ہے۔
    



Comments


Scroll to Top