انٹرنیشنل ڈیسک: طالبان انتظامیہ نے افغانستان میں ایک نیا فرمان جاری کیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ اس حکم کے مطابق، اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو مارتا ہے تو اسے جرم نہیں سمجھا جائے گا۔ اگر چوٹ شدید ہو تو زیادہ سے زیادہ 15 دن کی جیل ہو سکتی ہے۔ اس ڈکری میں کئی دیگر سخت سزاو¿ں کا بھی ذکر ہے۔ ہم جنس پرستی، "اسلام کے خلاف خیالات پھیلانے، بار بار چوری کرنے یا کچھ دیگر جرائم کے لیے سزائے موت کا انتظام رکھا گیا ہے۔ طالبان رہنما کی توہین کرنے پر کوڑے اور جیل کی سزا دی جا سکتی ہے۔
کیا ہیں نئے فرمان۔
- اگر شوہر بیوی کو اتنا مارتا ہے کہ ہڈی ٹوٹ جائے یا کھلا زخم ہو تو اسے 15 دن کی جیل ہو سکتی ہے۔
- اگر شدید چوٹ نہ ہو تو شوہر کو سزا نہیں مانی جائے گی۔
- ہم جنس پرستی،اسلام کے خلاف خیالات، جادو ٹونا، بار بار چوری جیسے جرائم پر سزائے موت کا انتظام ہے۔
- طالبان رہنما کی توہین کرنے پر 39 کوڑے اور ایک سال کی جیل۔
- سینئر افسران کو توہین کرنے پر 20 کوڑے اور 6 ماہ جیل۔
طالبان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اسلامی شریعت کے مطابق ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین کی حالت مزید کمزور ہوگی۔ ان کا موقف ہے کہ جب خواتین بغیر مرد سرپرست کے گھر سے باہر نہیں جا سکتیں تو وہ عدالت تک پہنچ کر شکایت کیسے کریں گی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ Volker Türk نے اس قانون پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو قانونی جواز دیتا ہے اور افغانستان میں حالات "صنفی استحصال" جیسے بنتے جا رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم Rawadari نے بھی اس ڈکری کو انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے خواتین کے حقوق مسلسل محدود ہوتے گئے ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے۔ زیادہ تر ملازمتوں میں خواتین کی شرکت بند کر دی گئی ہے۔ عوامی زندگی میں ان کی موجودگی انتہائی محدود ہو گئی ہے۔ نئے قانون کے بعد بین الاقوامی برادری میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ تاہم فی الحال طالبان اپنے فیصلوں میں تبدیلی کے کوئی اشارے نہیں دے رہا۔