نیشنل ڈیسک: ملک بھر میں زیرِ بحث یو جی سی کے نئے مساواتی قواعد 2026 پر اب سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا ہے۔ طلبہ کی متعدد درخواستوں پر سماعت کے بعد جمعرات، 29 جنوری 2026 کو عدالت نے ان نئے قواعد کے نفاذ پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ نئے قواعد کی زبان واضح نہیں ہے اور ان کے غلط استعمال کا پورا خدشہ موجود ہے۔ اسی وجہ سے عدالت نے مرکزی حکومت اور یو جی سی کو ہدایت دی ہے کہ وہ قواعد میں بہتری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں۔ جب تک نئی ترتیب تیار نہیں ہوتی، اس وقت تک یو جی سی مساواتی قواعد 2012 ہی ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نافذ رہیں گے۔
یو جی سی مساواتی قواعد 2012 کیا ہیں؟ آسان الفاظ میں سمجھئے
یو جی سی نے 2012 میں مساواتی قواعد اس لیے بنائے تھے تاکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے کسی بھی طالب علم کے ساتھ امتیاز نہ ہو اور سب کو برابر مواقع حاصل ہوں۔
یو جی سی کو یہ اختیار یو جی سی ایکٹ 1956 کی دفعہ 26 سے حاصل ہے، جس کے تحت وہ زیادہ تر اعلی تعلیمی اداروں کے لیے قواعد طے کر سکتی ہے۔
بھید بھاؤ کسے کہا جائے گا
یو جی سی کے قواعد میں بھید بھاؤ کی واضح تعریف دی گئی ہے۔ اس میں شامل ہے۔
- ذات، مذہب، زبان، جنس، نسلی شناخت یا معذوری کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کرنا۔
- کسی طالب علم یا طالب علموں کے گروہ کے ساتھ مختلف یا غیر مساوی برتاؤ۔
- ایسی شرائط عائد کرنا جو طالب علم کی انسانی وقار کے خلاف ہوں۔
- الگ - الگ ذات یا مذہب کے نام پر الگ تعلیمی نظام قائم کرنا۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو جو بھی برابری کو توڑے، وہی امتیاز ہے۔
ہراسانی کیا سمجھی جائے گی
اگر کسی طالب علم کے ساتھ-
- بار- بار توہین آمیز رویہ اختیار کیا جائے۔
- ڈرانے یا نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔
- دشمنانہ ماحول پیدا کیا جائے۔
تو اسے ہراسانی سمجھا جائے گا، چاہے وہ جسمانی نہ ہو۔
یونیورسٹی اور کالجوں کی ذمہ داری کیا ہے
ہر اعلی تعلیمی ادارے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ-
تمام طلبہ کے ساتھ منصفانہ اور مساوی برتا ؤہو۔
امتیاز اور ہراسانی کو روکا جائے۔
شکایت درست ثابت ہونے پر قصوروار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
خاص طور پرایس سی ، ایس ٹی، او بی سی( درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات ) کے طلبہ کے لیے-
- ریزرویشن پالیسی پر عمل کرنا ۔
- زیادہ فیس وصول کرنا ۔
- ڈگری یا نتیجہ روک کر دباؤ نہ بنانا ۔
- ہاسٹل یا میس میں علیحدگی نہ کرنا ۔
- نشانہ بنا کر رینگنگ نہ ہونے دینا ۔
ایکول آپرچونٹی سیل کیا ہوتی ہے؟
ہر کالج اور یونیورسٹی میں-
- ایک مساوی مواقع سیل قائم کرنا ضروری ہے۔
- ایک اینٹی ڈسکریمنیشن افسر کی تقرری لازمی ہے، جو پروفیسر کے عہدے یا اس سے اوپر کا ہو۔
- یہ سیل طلبہ کی شکایات پر غور کرتی ہے اور مساوات کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔
شکایت کا فیصلہ کتنے دن میں ہوگا؟
- کسی بھی امتیازی شکایت پر 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا ضروری ہوگا۔
- ادارے کو اپنی ویب سائٹ پر شکایت کے طریقہ کار اور قواعد کی معلومات دینا ہوں گی۔
- طلبہ کو باخبر کرنے کے لیے بیداری مہمات چلانا ہوں گی۔
نئے 2026 کے قواعد پر روک کیوں لگی؟
سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ-
- نئے قواعد کی زبان غیر واضح ہے۔
- غلط تشریح اور غلط استعمال کا امکان ہے۔
- طلبہ اور اداروں دونوں کے لیے ابہام کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی لیے عدالت نے کہا کہ پہلے قواعد میں اصلاح کرو، پھر انہیں نافذ کرو۔