نئی دہلی: فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ گڑگاوں کے ماہر ڈاکٹروں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور پرخطر سرجری کے بعد ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی 67 سالہ خاتون کے پیٹ سے 12 کلو وزنی کینسر کی رسولی (جی آئی ایس ٹی ) کامیابی سے نکال کر انہیں نئی زندگی دے دی۔
متاثرہ خاتون، طاہر عبدی حرسی، شدید درد، بھوک کی کمی اور پیٹ میں غیر معمولی سختی و سوجن کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لائی گئی تھیں۔ طبی معائنے اور پی ای ٹی-سی ٹی اسکین سے معلوم ہوا کہ وہ گیسٹرک جی آئی ایس ٹی نامی نایاب کینسر میں مبتلا ہیں، جو اپنی غیر معمولی جسامت کی وجہ سے جگر، تلی اور لبلبے جیسے اہم اعضاء کو بری طرح متاثر کر رہی تھی۔
اس ہائی رسک سرجری کی قیادت جی آئی اونکولوجی کے پرنسپل ڈائریکٹر ڈاکٹر امت جاوید اور ڈاکٹر نرولا یانگر نے کی۔
رسولی اس قدر بڑی تھی کہ اسے صرف پیٹ کے راستے سے نکالنا ممکن نہ تھا، اس لیے ڈاکٹروں کو تھوریکو ایبڈومینل طریقہ کار اپنانا پڑا، جس میں سینے اور پیٹ دونوں حصوں کو کھول کر رسائی حاصل کی گئی۔تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والے اس آپریشن میں رسولی کے ساتھ ساتھ معدے، تلی اور جگر کا کچھ حصہ بھی نکالا گیا تاکہ کینسر کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر امت جاوید نے بتایا کہ عام طور پر اتنی بڑی رسولیوں کے کیسز میں خون بہنے کے شدید خطرے کی وجہ سے ہسپتال علاج سے انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن ہماری ٹیم نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ یہ خطرہ مول لیا اور کم سے کم خون کے زیاں کے ساتھ یہ کامیاب سرجری مکمل کی۔صحت یاب ہونے کے بعد طاہر عبدی نے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوفزدہ تھی کہ کیا میں اتنے بڑے آپریشن سے بچ پاوں گی؟ لیکن ڈاکٹروں نے مجھے حوصلہ دیا۔ آج میں خود کو بہت ہلکا اور بہتر محسوس کر رہی ہوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے دوسری زندگی ملی ہو۔