Latest News

پاکستان میں شدید تیل بحران: شہباز حکومت کا بڑا فیصلہ، 30 دن تک پبلک ٹرانسپورٹ مفت

پاکستان میں شدید تیل بحران: شہباز حکومت کا بڑا فیصلہ، 30 دن تک پبلک ٹرانسپورٹ مفت

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کی جنگ کے درمیان پاکستان میں تیل کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی بڑھوتری کر دی گئی ہے تاکہ لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں کا کم استعمال کریں۔ اسی دوران شہباز شریف حکومت نے بڑا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں اگلے30 دنوں کے لیے تمام پبلک (عوامی ) ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا ہے۔
یہ بڑا قدم کیوں اٹھانا پڑا
جب سے ایران نے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کی ہے تب سے زیادہ تر ممالک کے تیل بردار جہاز خلیجی علاقے میں پھنس گئے ہیں۔ چین اور ہندوستان  جیسے ممالک نے پہلے سے تیل کا ذخیرہ تیار کر رکھا ہے لیکن پاکستان کے پاس مناسب ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تیل کی کمی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ شہباز حکومت چاہتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہو سکے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان پر
جمعہ کے روز ہی قیمتوں میں بڑی بڑھوتری کی گئی۔
پیٹرول : 458  روپے فی لیٹر۔
ڈیزل : 520 روپے فی لیٹر۔
کیروسین (مٹی کا تیل ): 457  روپے فی لیٹر۔
یہ فیصلہ امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لیا گیا ہے۔
28  دنوں میں ریکارڈ اضافہ
پاکستان نے چھ مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل پر پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل اضافہ جاری رہا۔
پیٹرول کل ایک سو بانوے روپے فی لیٹر بڑھا۔
ڈیزل کل 239 روپے فی لیٹر بڑھا۔
کھپت میں اضافہ خطرے کا اشارہ 
معاشی امور کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ پچھلے مہینے پیٹرول کی کھپت آٹھ فیصد اور ڈیزل کی کھپت تیرہ فیصد بڑھی۔ ایران کے بحران کے درمیان یہ صورت حال حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top