سہارنپور : مرزاپور پول میں واقع مدرسہ فیضانِ رحیمی میں ختم کلام اللہ شریف و مشکوٰ ةشریف کا ایک بابرکت اور علمی پروگرام منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علاقہ کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور طلبہ کی علمی رہنمائی کرناتھا۔
پروگرام کا آغاز قاری شہزاد سہارنپور : مرزاپور پول میں واقع مدرسہ فیضانِ رحیمی میں ختم کلام اللہ شریف و مشکوٰ ةشریف کا ایک بابرکت اور علمی پروگرام منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علاقہ کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور طلبہ کی علمی رہنمائی کرناتھا۔

پروگرام کا آغاز قاری شہزاد احمد رشیدی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے پورے ماحول کو روحانیت سے معطر کر دیا۔مولوی وجہ القمر نے بارگاہِ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بعد مفتی محمدواصل رشیدی نے اپنے خطاب میں طلبہ کو علمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ علمِ نبوت وہ قیمتی امانت ہے جو انسان کو ہدایت، اخلاق اور صحیح زندگی گزارنے کا شعور عطا کرتی ہے، اور طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اس علم کی قدر کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں، یہاں سے فارغ ہوکر جارہے ہیں تو اپنے مادرعلمی،اپنے اساتذہ کو اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کرنا۔
اس موقع پر مفتی سیدمحمدصالح الحسنی امین عام ونائب ناظم جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور ورکن شوری دارالعلوم دیوبند نے تکمیل قرآن کریم کا آخری درس دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں عظمت قرآن کریم کے اوپر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ اکابررحمہم اللہ نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے یہ مدراس شروع کئے، تاکہ مسلمان کا بچہ بچہ باہر سے بھی مسلمان رہے،اندر سے بھی مسلمان رہے۔ آج کا مسلمان اپنی اولاد کی آخرت سے عافل ہے، غیر ہمارے بچوں پر محنت کررہے ہیں کہ کیسے ان کو علما ء سے دور کیا جائے، مدراس، مساجد ،خانقاہوں سے دور کیا جائے۔یہ مدراس اسی وقت تک باقی ہیں جب تک ہم اپنے بچوں کو ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے رہیں گے۔

مولانا محمدطاہر مظاہری شیخ الحدیث مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور نے مشکوٰة شریف کا آخری درس دیا۔ ان کے جامع اور بصیرت افروز درس سے طلبہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے درس میں علمی فضیلت، حدیث کی اہمیت اور اس پر عمل کی ضرورت پر زور دیا۔جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور کے استاذ مفتی محمداسجد بہٹوی مدرسوں کی عظمت، اہمیت فضیلت پر مختصر مگر جامع پرمعز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدراس ساری دنیا میں اسلام کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔
پروگرام نہایت نظم و ضبط اور دینی وقار کے ساتھ مولاناعبدالرشید مظاہری مہتمم مدرسہ ہذا کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ مشکوٰة شریف سے 27 ، درجہ تجوید سے 8 ، حفظ مکمل کرنیوالے طلبا 29 ، طالبہ 1 ، ناظرہ مکمل کرنیوالے طلبا 31 ، طالبات 47 ،کل 135 طلبا وطالبات اس سال فارغ ہوئے۔حاضرین نے مدرسہ کی تعلیمی خدمات کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مدرسہ فیضانِ رحیمی آئندہ بھی علم دین کی شمع اسی طرح روشن کرتا رہیگا۔
آخر میں مولانا محمدارشدصاحب نائب مہتمم مدرسہ ہذا نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر مولانامحمدشمعون مظاہری مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور، قاری محمدعاقل قاسمی مدرسہ دارالاسلام ٹنکی والا بہٹ، مولانا محمدتحسین دارالعلوم رحیمیہ چکوں، مولانا محمدانیس نوگانوہ،مولانامحمدمشرف نعیمی مظاہری شیرپور، اساتذ مدرسہ مولانانیازاحمد، مولانامحمدعمران، مولانامحمدشرافت، مفتی نفیس احمد، مولانا محمدامجدرشید، مولانامحمدذاکر، حافظ زاہدحسن، حافظ محمدیوسف، قاری فیض الحسن،قاری عبدالرؤف، قاری انعام، قاری محمدطیب، مفتی توحید، حافظ نسیم احمد، حافظ محمدعارف وغیرہ موجود رہے۔

احمد رشیدی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے پورے ماحول کو روحانیت سے معطر کر دیا۔مولوی وجہ القمر نے بارگاہِ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بعد مفتی محمدواصل رشیدی نے اپنے خطاب میں طلبہ کو علمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ علمِ نبوت وہ قیمتی امانت ہے جو انسان کو ہدایت، اخلاق اور صحیح زندگی گزارنے کا شعور عطا کرتی ہے، اور طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اس علم کی قدر کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں، یہاں سے فارغ ہوکر جارہے ہیں تو اپنے مادرعلمی،اپنے اساتذہ کو اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کرنا۔
اس موقع پر مفتی سیدمحمدصالح الحسنی امین عام ونائب ناظم جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور ورکن شوری دارالعلوم دیوبند نے تکمیل قرآن کریم کا آخری درس دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں عظمت قرآن کریم کے اوپر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ اکابررحمہم اللہ نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے یہ مدراس شروع کئے، تاکہ مسلمان کا بچہ بچہ باہر سے بھی مسلمان رہے،اندر سے بھی مسلمان رہے۔ آج کا مسلمان اپنی اولاد کی آخرت سے عافل ہے، غیر ہمارے بچوں پر محنت کررہے ہیں کہ کیسے ان کو علما ء سے دور کیا جائے، مدراس، مساجد ،خانقاہوں سے دور کیا جائے۔یہ مدراس اسی وقت تک باقی ہیں جب تک ہم اپنے بچوں کو ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے رہیں گے۔

مولانا محمدطاہر مظاہری شیخ الحدیث مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور نے مشکوٰة شریف کا آخری درس دیا۔ ان کے جامع اور بصیرت افروز درس سے طلبہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے درس میں علمی فضیلت، حدیث کی اہمیت اور اس پر عمل کی ضرورت پر زور دیا۔جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور کے استاذ مفتی محمداسجد بہٹوی مدرسوں کی عظمت، اہمیت فضیلت پر مختصر مگر جامع پرمعز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدراس ساری دنیا میں اسلام کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں۔
پروگرام نہایت نظم و ضبط اور دینی وقار کے ساتھ مولاناعبدالرشید مظاہری مہتمم مدرسہ ہذا کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ مشکوٰة شریف سے 27 ، درجہ تجوید سے 8 ، حفظ مکمل کرنیوالے طلبا 29 ، طالبہ 1 ، ناظرہ مکمل کرنیوالے طلبا 31 ، طالبات 47 ،کل 135 طلبا وطالبات اس سال فارغ ہوئے۔حاضرین نے مدرسہ کی تعلیمی خدمات کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مدرسہ فیضانِ رحیمی آئندہ بھی علم دین کی شمع اسی طرح روشن کرتا رہیگا۔
آخر میں مولانا محمدارشدصاحب نائب مہتمم مدرسہ ہذا نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر مولانامحمدشمعون مظاہری مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور، قاری محمدعاقل قاسمی مدرسہ دارالاسلام ٹنکی والا بہٹ، مولانا محمدتحسین دارالعلوم رحیمیہ چکوں، مولانا محمدانیس نوگانوہ،مولانامحمدمشرف نعیمی مظاہری شیرپور، اساتذ مدرسہ مولانانیازاحمد، مولانامحمدعمران، مولانامحمدشرافت، مفتی نفیس احمد، مولانا محمدامجدرشید، مولانامحمدذاکر، حافظ زاہدحسن، حافظ محمدیوسف، قاری فیض الحسن،قاری عبدالرؤف، قاری انعام، قاری محمدطیب، مفتی توحید، حافظ نسیم احمد، حافظ محمدعارف وغیرہ موجود رہے۔