انٹرنیشنل ڈیسک: عالمی تجارت کے میدان میں بھارت اور یورپی یونین ایک ایسی تاریخی شراکت داری کرنے جا رہے ہیں جسے مدر آف آل ڈیلز کہا جا رہا ہے۔ منگل 27 جنوری 2026 کو ہونے والے اس فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے بعد بھارت میں یورپی گاڑیوں خاص طور پر مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور فوکس ویگن پر لگنے والا بھاری بھرکم ٹیکس کافی کم ہو جائے گا۔
کاروں پر 110 فیصد سے گھٹ کر 40 فیصد رہ جائے گا ٹیرف۔
فی الحال بھارت میں درآمد شدہ گاڑیوں پر 110 فیصد تک کا زیادہ ٹیرف لاگو ہے۔ معاہدے کے تحت اسے فوری طور پر گھٹا کر 40 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ آنے والے برسوں میں اسے مزید کم کر 10 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ قدم نہ صرف بھارتی صارفین کے لیے لگڑری گاڑیوں کو سستا بنائے گا بلکہ یورپی کمپنیوں کے لیے دنیا کی تیسری سب سے بڑی آٹو مارکیٹ کے دروازے بھی کھول دے گا۔

ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی اور بدلتی عالمی سیاست۔
یہ ڈیل ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ تنازع کو لے کر یورپی ممالک پر دباو¿ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے فروری سے آٹھ یورپی یونین ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد یورپ نے امریکہ کے ساتھ اپنی تجارتی ڈیل کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔ ایسے میں بھارت اور یورپی یونین کی یہ قربت عالمی تجارت کے توازن کو نئی شکل دے سکتی ہے۔
2031 تک 4.2 لاکھ کروڑ روپے کے تجارتی سرپلس کا اندازہ۔
اس معاہدے کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں ہے۔ ایم کے گلوبل کی رپورٹ کے مطابق اس فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے سال 2031 تک یورپی یونین کے ساتھ بھارت کا تجارتی سرپلس 51 ارب ڈالر یعنی تقریباً 4.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سے بھارت کی مجموعی برآمدات میں یورپ کی حصہ داری موجودہ 17.3 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک ہونے کی امید ہے۔