انٹرنیشنل ڈیسک: روس آج صرف عالمی سیاست اور جنگ کی خبروں تک محدود نہیں ہے۔ ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور سائبیریا جیسے علاقوں میں اب یوگ کلاسیں، دھیان شِوِر اور بھگود گیتا کے مباحثہ گروپ نظر آنے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ روسی سماج اندر سے کسی گہرے سکون کی تلاش میں ہے اور سناتن دھرم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی کی ایک اور مثال اتر پردیش کی روحانی راجدھانی کاشی میں دیکھنے کو ملی جہاں بدھ کے روز سناتن ثقافت کی الوہیت کا ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملا۔ روس سے آئے ایک جوڑے نے ہندو دھرم اور سناتن روایات سے متاثر ہو کر گنگا کے کنارے ویدک طریقے سے شادی رچائی۔ بابا شری کاشی وشوناتھ کو گواہ مان کر جوڑے نے سات پھیرے لیے اور سات جنموں تک ساتھ نبھانے کا عہد کیا۔
دشاشومیدھ گھاٹ واقع مندر احاطے میں کاشی کے ودوان برہمنوں کی جانب سے ویدک منتروں کے اچارَن کے درمیان شادی مکمل کرائی گئی۔ ہون کنڈ کے چاروں طرف پھیرے لیتے وقت دولہا دلہن جذباتی نظر آئے۔ گھاٹ پر موجود خواتین نے منگل گیت گا کر شادی کو اور بھی پاکیزہ بنا دیا۔ ہندو شادی کی سب سے اہم رسم سندور دان کے دوران دلہن مارین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود عقیدت مند اور سیاح بھی جذبات سے مغلوب ہو گئے۔ روس سے آئے کانسٹینٹ اور مارین نے بتایا کہ وہ پیشے سے تاجر ہیں اور گیارہ سال پہلے روسی روایت کے مطابق شادی کر چکے ہیں۔ بھارت کے سفر کے دوران کاشی پہنچنے پر انہیں سناتن دھرم، بھگوان مہادیو اور یہاں کی روحانی توانائی نے گہرائی سے متاثر کیا۔

جوڑے نے بتایا کہ کاشی میں رہتے ہوئے انہوں نے سناتن دھرم کے عقائد، سنسکاروں اور زندگی کے فلسفے کو قریب سے جانا، جس کے بعد انہوں نے ہندو رسم و رواج سے دوبارہ شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے کاشی کے برہمن شیواکانت پانڈے سے رابطہ کر کے ویدک طریقے سے شادی کرائی۔ دلہن مارین نے بتایا کہ روس میں موجود ان کے اہلِ خانہ اس شادی کو لے کر بے حد پرجوش تھے۔ شادی کی تمام رسومات آن لائن ذریعے سے انہیں دکھائی گئیں۔ اہلِ خانہ نے اس فیصلے پر رضامندی ظاہر کی اور آشیرواد دیا۔ مارین نے کہا کہ ہندو رسم و رواج سے شادی کرنا ان کی زندگی کا سب سے زیادہ روحانی اور ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔
روس اور سناتن۔ امن کی طرف بڑھتا سماج۔
مسلسل تنازعات، پابندیوں اور غیر یقینی مستقبل نے روسی سماج کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ ایسے میں سناتن دھرم کا کرم کا اصول، آتما کی امرتا اور موہ سے مکتی کا پیغام انہیں گہرائی سے چھو رہا ہے۔ روس کے بڑے شہروں میں یوگ مراکز تیزی سے بڑھے ہیں۔ بھارتی گروو¿ں کی جانب سے سکھایا گیا پرانایام اور دھیان روسی نوجوانوں کے لیے ذہنی سکون کا ذریعہ بن گیا ہے۔
گیتا کا گہرا پیغام اور یوگ۔
روسی زبان میں بھگود گیتا کے تراجم تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ اپنے کرتویہ کا پالن کرو، نتیجہ ایشور پر چھوڑ دو، یہ خیال جنگ اور الجھن سے گھرے سماج کو استحکام دیتا ہے۔ روس میں یوگ اب صرف ورزش نہیں رہا۔ یہ تناو، افسردگی اور تنہائی سے لڑنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ نوجوان ہوں یا بزرگ، بڑی تعداد میں لوگ دھیان اور پرانایام اپنا رہے ہیں۔
اسکون کی بھومیکا۔
اسکون جیسے تنظیموں نے روس میں سناتن کو زندگی کے طریقے کے طور پر پیش کیا۔ کیرتن، پرساد اور بھارتی تہوار اب کئی روسی خاندانوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ روسی شہری صاف کہتے ہیں کہ وہ کسی مذہب کو نہیں بلکہ امن اور توازن کو اپنانا چاہتے ہیں۔ سناتن انہیں جدوجہد کے درمیان بھی ثابت قدم رہنے کی طاقت دیتا ہے۔