National News

ٹرمپ کے دعووں پر ڈنمارک کی دو ٹوک بات: معاہدے کی کوئی گنجائش نہیں، خودمختاری پر فیصلہ حتمی

ٹرمپ کے دعووں پر ڈنمارک کی دو ٹوک بات: معاہدے کی کوئی گنجائش نہیں، خودمختاری پر فیصلہ حتمی

انٹرنیشنل ڈیسک: ڈنمارک کی وزیراعظم میتے فریڈریکسن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ یہ تبصرہ فریڈریکسن نے اس وقت کیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیٹو سربراہ کے ساتھ آرکٹک کی سلامتی پر مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک طے کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا دباو ڈالنے کے لیے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات لگانے کی دھمکی بدھ کو واپس لے لی۔ گرین لینڈ نیٹو کے حلیف ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار خطہ ہے۔ اس سے کچھ دیر پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس جزیرے کوپورے حقوق، ملکیت اور قبضے سمیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ گولڈن ڈوم میزائل دفاعی پروگرام کے حوالے سے گرین لینڈ پر اضافی بات چیت جاری ہے۔
گولڈن ڈوم میزائل ایک کثیر سطحی، 175 ارب امریکی ڈالر کی نظام ہے، جو پہلی بار امریکی ہتھیاروں کو خلا میں نصب کرے گی۔ انہوں نے اس پر مزید تفصیلات نہیں دیں اور کہا کہ یہ ابھی طے کیا جا رہا ہے۔ فریڈریکسن نے بیان میں کہا کہ آرکٹک کی سلامتی نیٹو کے تمام ممالک کا معاملہ ہے اور یہ قدرتی اور مناسب ہے کہ اس پر امریکی صدر اور نیٹو کے جنرل سیکریٹری مارک روٹ کے درمیان بات چیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے روٹ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، جس میں ان کی داووس میں ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے اور بعد کی گفتگو بھی شامل ہے۔
وزیراعظم نے لکھا کہ نیٹو ڈنمارک کے موقف سے مکمل طور پر واقف ہے کہ سلامتی، سرمایہ کاری اور اقتصادی امور سمیت سیاسی مسائل پر بات چیت کی جا سکتی ہے، لیکن ہم اپنی خودمختاری پر بات نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا،مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ فریڈریکسن نے کہا کہ ڈنمارک آرکٹک میں سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے، جس میں امریکی گولڈن ڈوم پروگرام بھی شامل ہے، بشرطیکہ کہ اسے ہماری علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ کیا جائے۔



Comments


Scroll to Top