ٹوکیو:دنیا کے سب سے بڑے جوہری توانائی پلانٹ کو جمعرات کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا۔ یہ قدم دو ہزار گیارہ کے فوکوشیما جوہری حادثے کے بعد پہلی بار آپریشن دوبارہ شروع ہونے کے محض چند گھنٹوں بعد اٹھایا گیا۔ شمالی وسطی جاپان میں واقع کاشیواجاکی کاریوا جوہری پلانٹ کے نمبر چھ ری ایکٹر کو کنٹرول راڈز سے جڑی تکنیکی خرابی کے باعث بند کرنا پڑا۔ اس کے آپریٹر ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ہولڈنگز کے مطابق کنٹرول راڈز ری ایکٹر کو محفوظ طریقے سے شروع کرنے اور بند کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ٹیپکو نے کہا کہ اس تکنیکی خرابی سے کوئی حفاظتی مسئلہ نہیں ہے اور کمپنی صورتحال کی جانچ کر رہی ہے۔
فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ ری ایکٹر کو دوبارہ چلانے کا عمل کب شروع ہوگا۔ کاشیواجاکی کاریوا جوہری پلانٹ کے نمبر چھ ری ایکٹر کا کام دوبارہ شروع ہونے پر سب کی نظریں تھیں کیونکہ ٹیپکو وہی کمپنی ہے جو متاثرہ فوکوشیما دائیچی جوہری پلانٹ کا بھی آپریشن کرتی ہے۔ کاشیواجاکی کاریوا جوہری پلانٹ کے تمام سات ری ایکٹر مارچ دو ہزار گیارہ میں جاپان کے شمال مشرقی ساحل پر واقع فوکوشیما دائیچی پلانٹ میں شدید زلزلہ اور سونامی آنے کے ایک سال بعد سے بند پڑے ہیں۔
اس حادثے میں ری ایکٹر پگھل گئے تھے اور تابکار مادوں کے شدید اخراج سے آس پاس کی زمین اس قدر آلودہ ہو گئی کہ کچھ علاقے آج بھی رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ٹیپکو اب بھی اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان سے ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ فوکوشیما دائیچی پلانٹ میں صفائی کا کام بھی کر رہی ہے جس کی اندازاً لاگت بائیس ٹریلین ین یعنی تقریباً ایک سو انتالیس ارب ڈالر ہے۔ سرکاری اور آزاد تحقیقات میں فوکوشیما سانحے کے لیے ٹیپکو کی ناقص حفاظتی انتظامات کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور حفاظتی حکام کے ساتھ ملی بھگت پر کمپنی پر تنقید بھی کی گئی تھی۔