Latest News

یورپ تک پہنچی ایران مخالف آگ، برطانیہ میں مظاہرہ کرنے والے نے سفارت خانے پر لگا جھنڈا پھاڑ کر اتارا (ویڈیو)

یورپ تک پہنچی ایران مخالف آگ، برطانیہ میں مظاہرہ کرنے والے نے سفارت خانے پر لگا جھنڈا پھاڑ کر اتارا (ویڈیو)

لندن: ایران میں سُلگتا ہوا عوامی غصہ اب سرحدوں کو عبور کر چکا ہے اور دنیا کے بڑے شہروں میں اس کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ایرانی مظاہروں کی آگ اب یورپ تک پھیل گئی ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک مظاہرہ کرنے والے نے ایرانی سفارت خانے کی عمارت سے ایران کا قومی پرچم اتار کر پھاڑ دیا، جس سے عالمی سطح پر ایران کے بحران کی گونج  مزید تیز ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لندن میں بڑی تعداد میں ایرانی تارکین وطن، انسانی حقوق کے کارکنان اور حکومت مخالف حامی سڑکوں پر نکل کر تہران حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں عوام کی آواز کو گولیوں، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ بند ہونے  کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔

MUST WATCH: A man in London scaled the Islamic Republic embassy and tore down the terrorist flag.

Free Iran. pic.twitter.com/5hZcCWIUL6

— Jayne Zirkle (@JayneZirkle) January 10, 2026


عینی شاہدین کے مطابق ایک مظاہرہ کرنے والا سفارت خانے کی بالکونی کے قریب پہنچا اور وہاں نصب ایرانی پرچم اتار کر پھاڑ دیا۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور اسے ایرانی حکومت کے خلاف علامتی بغاوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے تاناشاہی  مردہ باد، خامنہ ای ہٹاؤ اور ایران کو آزادی دو جیسے نعرے لگائے۔ کئی افراد نے ہاتھوں میں ایران میں مارے گئے مظاہرین کی تصاویر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔ برطانوی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورتحال کو قابو میں کیا۔ اگرچہ کسی بڑے تصادم کی اطلاع نہیں ملی، تاہم سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر ایرانی سفارت خانے کے اطراف پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا سفارت خانے کی حفاظت میں کوئی کوتاہی تو نہیں ہوئی۔

🚨BREAKING: A brave protester just climbed Iran's Embassy in London, ripped down the regime's flag & raised the pre 1979 Lion & Sun flag‼️

The real Iran is rising 🔥🇮🇷#IranRevolution2026 #FreeIran pic.twitter.com/w1MozKtM9l

— Gauci Reports (@MartinGauci) January 10, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران میں جاری تحریک اب صرف اندرونی معاملہ نہیں رہی۔ یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں مقیم ایرانی برادریاں مسلسل اپنی حکومتوں سے تہران پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں اب تک سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات پر عائد پابندیوں کے باعث اصل حالات سامنے آنا مشکل ہو گیا ہے۔ لندن میں سفارت خانے سے پرچم پھاڑے جانے کے واقعے کو ایرانی حکومت کے لیے ایک سفارتی شرمندگی قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر ایسے احتجاج بڑھتے رہے تو ایران پر سیاسی اور معاشی دبا ؤ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
 

 



Comments


Scroll to Top