نئی دہلی:شمال مغربی دہلی کے شالیمار باغ میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کی خاتون کارکن رچنا یادو کے گولی مار کر قتل کیے جانے کے ایک دن بعد اتوار کو سابق وزیر اعلیٰ اورعآپ سپریمو اروند کیجریوال نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور قومی راجدھانی میں امن و قانون کی صورتحال مکمل طور پر خراب کیے جانے کا الزام لگایا سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر کیجریوال نے کہا کہ دہلی کی صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اب یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ مسٹر کیجریوال نے پوسٹ میں لکھا، "وزیر اعلیٰ کے اپنے ہی انتخابی حلقے کا یہ واقعہ بی جے پی حکومت کی ناکامی اور امن و قانون کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ میرے احساسات عام آدمی پارٹی کی بہادر کارکن رچنا یادو کے کنبے کے ساتھ ہیں۔ایشور ان کی آتما کو شانتی دے۔
'عآپ' نے بھی 'ایکس' پر اس واقعے کو دل دہلا دینے والا اور شرمناک قرار دیا۔ پارٹی نے کہا، "دہلی کے شالیمار باغ میں عام آدمی پارٹی کی کارکن رچنا یادو کو دن دہاڑے ان کے گھر کے باہر گولی مار کر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف امن و قانون کی مکمل ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ خواتین کی حفاظت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
پارٹی نے پوسٹ میں کہا، "وزیر اعلیٰ کے اپنے انتخابی حلقے میں اس طرح کا گھناونا جرم ہونا بالکل ناقابل قبول ہے۔ مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ایشور ا±ن کی آتما کو شانتی دے۔دہلی پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ پولیس نے کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کیس حل کرنے کے قریب ہیں۔