Latest News

ایران سے جنگ کی تیاری؟ امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہاز اور لڑاکا طیارے کئے تعینات، اسرائیل بھی ہائی الرٹ پر

ایران سے جنگ کی تیاری؟ امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہاز اور لڑاکا طیارے کئے تعینات، اسرائیل بھی ہائی الرٹ پر

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے لانچ کئے جانے کے صرف 24 گھنٹے بعد ہی امریکہ- ایران تعلقات دوبارہ گرم ہو گئے ہیں۔ ایک طرف امریکہ عالمی امن کی بات کر رہا ہے، تو دوسری طرف اس نے خلیجی خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی جما ؤڑا شروع کر دیا ہے، جس سے جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بحیرہ عرب کی جانب بڑھا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز
امریکہ کا طاقتور یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اسٹرائیک گروپ اب بحیرہ عرب  کے راستے خلیج فارس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس اسٹرائیک گروپ میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر، حملہ آور آبدوزیں اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بیڑے کو جنوبی چین سمندر سے موڑا گیا ہے اور دشمنوں کی نظر سے بچنے کے لیے اس کے ٹرانسپونڈر (لوکیشن ٹریکنگ سسٹم بھی ) بند کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیل بھی مکمل طور پر متحرک
امریکہ کے اس قدم کے ساتھ ہی اسرائیل بھی ہائی الرٹ موڈ میں آ گیا ہے۔ ایف- 15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے مغربی ایشیا میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ کے سی - 135 ری فیولر ٹینکر طویل فاصلے کے فضائی حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تھاڈ اور پیٹریاٹ اینٹی میزائل نظام اسرائیل اور قطر جیسے امریکی اتحادی ممالک میں فعال کر دیے گئے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہتے ہیں۔
ایران کے اندر حالات انتہائی خراب
امریکہ کے اس فوجی اقدام کو براہ راست ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک 3117 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 20000 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان اعداد و شمار پر بین الاقوامی سطح پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
اسی دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو تشدد روکنے کی سخت وارننگ دی ہے۔ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ امریکی دباؤ کے باعث ایران میں مجوزہ پھانسی کی سازشوں کو روکا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
جوہری معاملے نے کشیدگی بڑھا دی
کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ایران کا جوہری پروگرام بھی ہے۔ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران سے متعلق 400 کلو افزودہ یورینیم، جسے تقریبا 10 جوہری ہتھیاروں کے برابر سمجھا جاتا ہے، اب بھی لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر ایران کا سخت موقف امریکہ اور اسرائیل دونوں کی تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔
ایران کا جواب، امریکہ اور اسرائیل پر الزام
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بھڑکائے جا رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اس کی خودمختاری میں مداخلت ہے۔
 



Comments


Scroll to Top