National News

چین کی اپنی فوج کے خلاف سب سے بڑی کارروائی، دو سینئر فوجی افسران پر گری گاج

چین کی اپنی فوج کے خلاف سب سے بڑی کارروائی، دو سینئر فوجی افسران پر گری گاج

بیجنگ: چین کی فوج پیپلز لبریشن آرمی میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی سامنے آئی ہے۔ چین کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ دو سینئر فوجی افسران کے خلاف پارٹی نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات میں جانچ شروع کی گئی ہے۔ ان میں سب سے بڑا نام جنرل ژانگ یووشیا کا ہے۔ جنرل ژانگ سینٹرل ملٹری کمیشن کے پہلے نائب صدر ہیں۔ سینٹرل ملٹری کمیشن چین کی فوج کی اعلیٰ ترین کمان ہے، جس کے چیئرمین خود صدر شی جن پنگ ہیں۔ اس عہدے کی وجہ سے ژانگ کو چین کا سب سے سینئر وردی پوش فوجی افسر مانا جاتا ہے۔ وہ برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کی 24 رکنی پولٹ بیورو کے بھی رکن ہیں۔ دوسرے افسر جنرل لیو ژین لی ہیں، جو سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن اور جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف ہیں۔ وزارت دفاع نے مختصر بیان میں کہا کہ پارٹی کے اعلیٰ ادارے کی منظوری کے بعد دونوں کے خلاف جانچ شروع کی گئی ہے۔
اس کارروائی نے چینی فوجی نظام میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ صدر شی جن پنگ 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل بدعنوانی مخالف مہم چلا رہے ہیں، جسے ٹائیگرز اور فلائز یعنی بڑے اور چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی کہا جاتا ہے۔ اس مہم کے تحت اب تک دو سابق وزرائے دفاع، درجنوں سینئر پیپلز لبریشن آرمی افسران اور سکیورٹی فورسز کے کئی اعلیٰ افسران کو برطرف یا سزا دی جا چکی ہے۔ اکتوبر میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے دوسرے نمبر کے افسر ہی وے دونگ کو پارٹی اور فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف یہ مہم صرف صفائی نہیں بلکہ شی جن پنگ کی طاقت کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ خود شی جن پنگ نے حالیہ اندرونی خطاب میں کہا تھا کہ بدعنوانی پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور یہ لڑائی ابھی طویل اور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔



Comments


Scroll to Top