National News

ایران کی یونیورسٹیوں میں بغاوت کی لہر : ''تاناشاہ خامنہ ای کے موت ''کے نعروں سے گونجا تہران ، طلبہ اور سکیورٹی فورسز میں شدید جھڑپیں ( ویڈیو)

ایران کی یونیورسٹیوں میں بغاوت کی لہر : ''تاناشاہ خامنہ ای کے موت ''کے نعروں سے گونجا تہران ، طلبہ اور سکیورٹی فورسز میں شدید جھڑپیں ( ویڈیو)

 انٹر نیشنل ڈیسک : ایران میں ہفتے کو حکومت مخالف مظاہروں نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ۔دارالحکومت تہران اور مشہد سمیت کئی اہم یونیورسٹیوں میں طلبہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جنوری میں ہونے والی کارروائی کے 40 دن مکمل ہونے پر منعقدہ سوگ کی تقریبات کے دوران یہ احتجاج دوبارہ بھڑک اٹھا۔  تہران میں واقع شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (Sharif University of Technology)  اور امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی  (Amirkabir University of Technology ) سے سامنے آئے ویڈیوز میں طلبہ ' تاناشاہ کی موت ' اور 'آزادی' کے نعرے لگاتے دکھائی دیے ۔ کچھ گروپوں نے اعلی رہنما علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ 

#BREAKING The regime's Basij militia storm the Amirkabir university anti-government protests pic.twitter.com/obdQMKT9hL

— Tehran_Link پشت‌پرده‌ای‌ها (@Posht_Parde) February 22, 2026


رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلاب گارڈ کورپس (IRGC) سے منسلک بسیج نیم فوجی دستوں کی کیمپس میں تعیناتی کے بعد طلبہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔  کئی مقامات پر دھکا مکی اور مارپیٹ کی وارداتیں سامنے آئیں۔  ایران کی روایت میں موت کے 40ویں دن (چہلم)کی خاص اہمیت ہے۔ 8 اور 9 جنوری کو ہونے والی ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ 
 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ بدامنی میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 3,100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔  جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کا دعوی ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 6,000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ان مظاہروں کا آغاز دسمبر میں مہنگائی اور گرتی ہوئی معیشت کے خلاف ہوا تھا، لیکن اب یہ مذہبی قیادت اور حکومتی نظام کے خلاف ایک وسیع سیاسی تحریک میں بدل گیا ہے۔

Look at that crowd at Ferdowsi University in Mashhad!

After all the arrests, beatings, and bullets, the campuses are still overflowing.
Chant heard in the video:
This is our last battle, Pahlavi will return.#IranRevolution2026 🇮🇷 pic.twitter.com/pSop3SiXXb

— 🇮🇷Decado🇮🇷 (@ItsDecado) February 22, 2026


یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس دوران امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں دو ہوائی جہاز بردار بحری جہاز تعینات کرنے کی خبروں سے تنا ؤاور بڑھ گیا ہے۔ تہران نے اسے ابھکانے والا اقدام قرار دیا ہے ۔ ایران حکومت کا الزام ہے کہ مظاہروں کو بیرونی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ، کی طرف سے بھڑکایا جا رہا ہے۔تاہم کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ احتجاج بنیادی طور پر اقتصادی بحران اور سیاسی پابندیوں سے پیدا شدہ ناخوشی کا نتیجہ ہے۔
ایران کے قیادت کے سامنے ایک طرف گھریلو عدم استحکام کو کنٹرول کرنے کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانے کا دبا ؤہے۔  اتوار کے لیے بھی مظاہروں کی نئی اپیل کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں فی الحال تنا ؤکم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔
 



Comments


Scroll to Top