نئی دہلی:پولینڈ کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رادوسلاو سیکورسکی، جو ہندوستان کے تین روزہ دورے پر ہیں ہندوستان-پولینڈ اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پیر کے روز نئی دہلی پہنچے سیکورسکی کا استقبال ایڈیشنل سکریٹری پوجا کپور نے کیا ان کے دورے کا ایجنڈا ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانا اور تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنا ہے۔
پولینڈ کے نائب وزیرِ اعظم سے توقع ہے کہ وہ ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے، تاکہ ہندوستان-پولینڈ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 'نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔ پولینڈ کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رادوسلاو سیکورسکی آج نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ نئی دہلی میں ان کی مصروفیات ہندوستان-پولینڈ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر مرکوز ہیں۔' دارالحکومت پہنچنے سے قبل سیکورسکی نے 17 سے 18 جنوری تک جے پور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جے پور لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کی۔
سیکورسکی نے 'اے کانٹیننٹ اِن کرائسس: رشیا، یوکرین اینڈ دی یورپین اسٹوری' کے عنوان سے ایک اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ نے یورپی براعظم کے استحکام کو کس طرح متاثر کیا ہے اور یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد چین نے کس طرح اسٹریٹجک فوائد حاصل کیے ہیں۔روس-چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے سیکورسکی نے کہا کہ 'روس اب تیل کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو رہا ہے اور اعلیٰ معیار کی اشیا، انٹرنیٹ تک رسائی اور سائبر خدمات کے لیے چین پر انحصار کررہا ہے۔' انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ روس شمالی کوریا کو میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔