نئی دہلی: نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر ورون گروور نے آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کی حمایت کی ہے، جنہیں حالیہ بیانات پر تفرقہ بازی قرار دے کر آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا رحمان نے ایک عوامی گفتگو کے دوران فلم چھاوا کو تقسیم کرنے والا قرار دیا تھا اور اشارہ دیا کہ انہیں انڈسٹری میں فرقہ واریت کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کے بیانات پر شدید آن لائن ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد اے آر رحمان نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے کسی کو ف پہنچی ہے تو انہیں افسوس ہے۔
اس تنازع کے دوران نیشنل ایوارڈ یافتہ نغمہ نگار ورون گروور نے رحمان کا دفاع کیا۔ انہوں نے رحمان کی کمپوز کردہ مشہور گیت او پالن ہارے (فلم لگان سے) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے ردعمل پر تنقید کی۔اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھاکہ گزشتہ تین دہائیوں کے سب سے بڑے موسیقار پر حملہ کیا گیا اور انہیں گالیاں دی گئیں (یہاں تک کہ انڈسٹری کے لوگوں کی جانب سے بھی) صرف اس لیے کہ انہوں نے نہایت شائستگی اور نرمی سے اپنی ذاتی تجربے پر مبنی رائے دی۔
انہوں نے مزید کہاکہ اور اگلے ہی دن انہیں زہریلے ہجوم کو پرسکون کرنے کے لیے معافی نامہ جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر کسی مزید ثبوت کی ضرورت تھی تو یہ بڑھتی ہوئی تفرقہ بازی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اتوار کو رحمان نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے ہندوستان سے اپنی گہری وابستگی اور بطور فنکار اپنے مقصد کو دوبارہ واضح کیا۔انہوں نے کہاکہ موسیقی ہمیشہ میرا ذریعہ رہی ہے جڑنے، جشن منانے اور ہماری ثقافت کو عزت دینے کا۔ ہندوستان میری تحریک، میرا استاد اور میرا گھر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نیت کبھی کبھار غلط سمجھی جا سکتی ہیں۔ لیکن میرا مقصد ہمیشہ موسیقی کے ذریعے عزت دینا اور خدمت کرنا رہا ہے۔ میں نے کبھی کسی کو دکھ دینے کی خواہش نہیں کی اور امید ہے کہ میری سچائی محسوس کی جائے گی۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک مختلف انٹرویو میں رحمان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں بطور تمل موسیقار بالی ووڈ میں کبھی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔اپنے فلمی سفر پر غور کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ"شاید مجھے کبھی اس کا علم نہ ہوا، شاید خدا نے اسے چھپا دیا، لیکن مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا۔ پچھلے آٹھ برسوں میں شاید اس لیے کہ طاقت کی تبدیلی ہوئی ہے اور اب غیر تخلیقی لوگ طاقت میں ہیں۔ یہ فرقہ وارانہ چیز بھی ہو سکتی ہے… لیکن یہ میرے سامنے نہیں ہے۔اسی انٹرویو میں رحمان نے فلم چھاوا پر اپنی تنقید کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ فلم تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔